آج کل لوگ جانوروں کو گھر میں رکھنے کو بہت ثواب سمجھتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں گھر میں جانور یا پرندہ رکھنے سے کالا جادو اور جنات وغیرہ اس گھر میں حملہ آور نہیں ہوتے اور مصیبتیں اور پریشانیوں کو جانور یا پرندے اپنے اوپر لے لیتے ہیں؟
یہ محض جاہلانہ اوہام و خیالات ہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ پرندوں وغیرہ جانور کے اگر دانہ پانی کا خیال رکھا جائے تو ان کا گھر میں پالنا شرعاً جائز ہے۔
ففی المشکوة: عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ ابعض الناس الی اللہ ثلٰثة ملحد فی الحرم ومبتغ فی الاسلام سنة الجاهلية ومطلب دم امریٔ مسلم بغیر حق لیهریق دمه رواہ البخاری اه (ج۱، ص۲۷)
وفی الشامية: لا باس بحبس الطیور والدجاج فی بیته ولکن یعلفها وهو خیر من ارسالها فی السکك اھـ وفی القنية رامز احبس بلبلا فی القفص وعلفها لا یجوز (الی قوله) سئل هل یجوز حبس الطهور المفردة وهل یجوز عتقهما وهل فی ذالك ثواب وهل یجوز قتل الوطا ویط لتلویثها حصر المسجد بخرئها الفاحش فاجاب یجوز حبسها للاستئناس بها واما اعتاقها فلیس فیه ثواب وقتل الموذی منها ومن الدواب جائزُ۔ اھـ الخ (ج۶، ص۴۰۱) واللہ اعلم بالصواب!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0