ہمارے ہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ:
(۱) مرے ہوئے چاند یعنی چاند کی 15 تاریخ کے بعد شادی کرنے سے ازدواجی زندگی میں ناچاقیاں ہوتی ہیں، یہاں تک کہ طلاق بھی ہوجاتی ہے، کیا اس طرح کہنا اور ماننا صحیح ہے؟
(۲) محرم الحرام اور صفر المظفر میں شادی کرنے سے ازدواجی زندگی خراب ہوتی ہے، اس لیے ربیع الاوّل سے ذی القعدہ تک ٹائم دیا جاتا ہے۔
(۳) زندگی اجڑنے سے بچانا اللہ کا گھر تعمیر کرنے جیسا ثواب رکھتا ہے۔
کیا یہ باتیں درست ہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمادیں
قرآن وسنت میں کسی بھی ضرورت مند کی مدد کرنے کی بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں، حتی کہ نصوص شرعیہ میں اسے براہ راست اللہ رب العزت کو قرض دینے کا مترادف قراردیاگیاہے، تاہم سوال میں فضیلت نظرسے نہیں گزری اس لیے دیگر اہل علم سے بھی مراجعت کی جاسکتی ہے۔
جبکہ چاند کی 15 تاریخ کے بعد یا محرم اور صفر المظفر کے مہینوں میں شادی کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اور اس سے متعلق لوگوں کا مذکور نظریہ قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے، اور احادیثِ مبارکہ میں اس تصور کی نفی فرمائی گئی ہے، ذیل میں چند حدیثیں مع ترجمہ ملاحظہ ہوں:
قال اللہ تعالی:
اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَاَقْرَضُوا اللہَ قَرْضاً حَسَناً یُضَاعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ (الحدید: ۱۸)
ترجمۃ: مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں، اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسن دیاہے،ان کو یقیناکئی گنابڑھاکر دیا جائے گا، اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔
وفي صحیح البخاري: حدثنا سعيد بن ميناء، قال: سمعت أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عدوى ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر، وفر من المجذوم كما تفر من الأسد» اھ (۲/۴۵۰)۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا بیماری کا ایک دوسرے کو لگنا نہیں اور بدشگونی ہامہ، اور صفر یہ سب چیزیں بے حقیقت ہیں، البتہ تم جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔
وفي الصحیح للامام مسلم: عن ٲبي ھریرة ٲن رسول اللہ ۔ صلی اللہ علیه وسلم ۔ قال: لا عدوی، ولا ھامة، ولانوء، ولاصفر اھ (۲/۲۳۱)۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک سے دوسرے کو بیماری کا لگنا ہامہ، اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
وفيه ٲیضا: عن جابر بن عبداللہ یقول: سمعت النبي ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یقول: لا عدوی، ولا صفر، ولا غول اھ (۲/۲۳۱)۔
ترجمہ: حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک دوسرے کو بیماری کا لگنا، صفر اور غول کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0