السلام علیکم! مفتی صاحب! کیا جنات کا انسانوں کے درمیان آنا جانا ،اور فیصلہ کرنا ،اور کسی کو کہے کہ فلاں نے آپ کا حق معاف کیا ،تو قرآن و حدیث کی رو سے معتبر ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو مختلف شکلیں اختیار کرنے پر قدرت دی ہے، لہٰذا جنات کا انسانوں کے درمیان آنا جانا اگر چہ ممکن ہے، مگر ان کا انسانوں کے معاملات کا فیصلہ کرنا یا کسی کو فلاں کی طرف سے حق کی معافی کی خبر اور اطلاع دیناشرعاًقابلِ حجت اور معتبر نہیں، اس لیے ان کی بات کو بنیاد بنا کر کسی کے حق کی معافی وغیرہ کا فیصلہ کرنا بھی درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في القرآن المجيد: ﴿وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ﴾ [الحجر: 27]
وفي إتحاف الخيرة المهرة: قال أبو بكر بن أبي شيبة: ثنا هاشم بن القاسم عن أبي عقيل عن مجالد عن الشعبي عن مسروق عن عائشة- رضي الله عنها- قالت: " حدث رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نساءه ذات يوم حديثا فقالت امرأة منهن: يا رسول الله كأن هذا حديث خرافة. قال: أتدرون ما خرافة؟ إن خرافة كان رجلا من عذرة أسرته الجن في الجاهلية فمكث فيهم دهرا ثم ردوه إلى الإنس فكان يحدث الناس بما عاين فيهم من الأعاجيب فقال الناس: حديث خرا فة" اھ (7/ 67)
وفي حاشية ابن عابدين: والعراف: المنجم. وقال الخطابي: هو الذي يتعاطى معرفة مكان المسروق والضالة ونحوهما. اهـ. والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف. والرمال والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب بالحصى، والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر. وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه. وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اهـ (4/ 242) واللہ أعلم بالصواب!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0