السلام علیکم! میرا سوال فرضی قصوں کے بارے میں ہے کہ جو ماہِ صفر سے متعلق ہیں: بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ مہینہ مردوں کیلیے منحوس ہےا ور بہت سی عجیب اشیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر نازل کی جاتی ہیں، جس کیلیے لوگ زیادہ سے زیادہ صدقہ اور خصوصی نمازیں پڑھیں، ان چیزوں سے حفاظت کیلیے، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں ماہِ صفر پر پروشنی ڈالیں۔
یہ محض من گھڑت باتیں، عوامی خرافات اور توہم پرستی پر مبنی اُمور ہیں، جن کی شرعاً کوئی اصل نہیں اور نبی کریم ﷺ نے اس کی نفی فرمائی ہے، اس لیے ایسی باتوں میں پڑنے سے احتراز لازم ہے۔
في مشکاۃ المصابیح: عن جابر قال: سمعت النبي ۔ صلى الله عليه وسلم ۔ يقول: «لا عدوى ولا صفر ولا غول» رواه مسلم اھ (ص:۳۹۲) واللہ اعلم بالصواب!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0