مجھے کئی سالوں سے ’’وسوسہ‘‘ کا مسئلہ درپیش ہے، الحمدللہ میں نے شرح فقہ الاکبر اور قدوری وغیرہ اپنے افغانستان کے شیخ سے پڑھا ہے اور اب ہدایہ شروع کیا ہے، الحمدللہ! لیکن مجھے وسوسہ درپیش ہے کہ میرا ایمان ختم ہوگیا ہے میں اس بارے میں پریشان ہوجاتا ہوں اور تجدید ایمان کرتا ہوں، میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی میرے کان میں میرے سوچ کے خلاف بول رہا ہے، الحمدللہ! میں اپنی طاقت کے مطابق سنت پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، میں نے اپنے شیخ سے نہیں پوچھا، کیونکہ میں نہیں بتاسکتا کہ مجھے کیا وسوسہ درپیش ہے، میں اپنے ایمان کے بارے میں واقعی پریشان ہوں، فقہ میں وسوسہ کا کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی میرے ایمان کیلیے دعا کیجیے۔
ایمان کے منافی وساوس آنے سے ایمان زائل یا ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس قسم کے وساوس کو بُرا سمجھنا اور اپنے ایمان کے بارے میں فکر مند ہونا عینِ ایمان ہے، لہٰذا اس قسم کے وساوس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ وساوس کا علاج یہ ہے کہ ان کی طرف توجہ نہ دی جائےا ور اللہ تعالیٰ سے اس طرح کے خیالات اور پریشانی سے نجات کی دعا بھی کرتے رہیں ان شاء اللہ بہتر ہوگا۔ واللہ اعلم!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0