السلام علیکم ! سوال یہ ہے زید نے بکر کو ۱۰۰ روپے مضاربت کے طور پر دیئے کہ بکر کاروبار شروع کرے اور یہ طے ہوا کہ ماہانہ ساٹھ(۶۰) فیصد نفع بکر کو ملے گا اور چالیس(۴۰) فیصد زید کو اور نقصان زید ہی پورا کرےگا، مگر جب نقصان زید کے نفع ۴۰ فیصد کے نصف یعنی۲۰ فیصد جتنی رقم سے زائد ہو جائے تو بھی نقصان زید ہی پورا کریگا، مگر اس ماہ کا نفع زید کو ۶۰ فیصد اور ۴۰ فیصد بکر کے لیے طے ہوا تو ایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟ یعنی جب نقصان کی رقم زید کے ماہانہ نفع کے نصف سے زائد ہو جائے تو اس ماہ نفع کی مقدار کو فریقین میں آگے پیچھے کرنا؟
واضح ہو کہ مضاربت کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نقصان کی صورت میں اولاً حاصل شدہ نفع سے نقصان کو پورا کیا جائے گا، اور اگر نقصان نفع سے بھی زائد ہو تو پھر اس نقصان کو رب المال ہی برداشت کرے گا، مضارب پر کوئی نقصان نہیں ڈالا جائے گا۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں نقصان ہو جانے کی صورت میں نفع کی تقسیم کے لیے طے شدہ تناسب میں ردو بدل کرنا تو جائز نہیں البتہ نفع سے نقصان کی تلافی کرنے کے بعد اگر بقیہ نفع پہلے سے طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جائے تو یہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
کما فی البدائع: ولو شرطا في العقد أن تكون الوضيعة عليهما بطل الشرط، والمضاربة صحيحة وشرط الوضيعة عليهما شرط فاسد؛ لأن الوضيعة جزء هالك من المال، فلا يكون إلا على رب المال اھ (6/ 86)واللہ اعلم بالصواب
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0