کیافرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام س مسئلہ کے بارے میں کہ میر ارشتہ جہاں طے پایا ہے وہ ستاروں پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے ستارے نہیں ملتے اور یہ رشتہ مناسب نہیں ہے، اس فیصلہ پر ہمارا اسلام کیا کہتا ہے؟ براہِ کرم جواب عنایت فرما کر مسئلہ کا حل فرمائیں۔
ستاروں کے ذریعہ معلومات اوراس کی بنیاد پر فیصلے محض وہمی اور تخمینی ہیں، یقینی نہیں، اس لیے اس پر یقین کر کے کسی جگہ سے رشتہ توڑنا درست نہیں، بلکہ یہ آدمی کے اپنے اعتقاد کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے اجتناب چاہیے ہاں! اگر خارجی اور ظاہری طور پر حالات ایسے ہوں کہ واقعی رشتہ کے بعد انصاف نہ ہو سکےگا تو اس پر باہمی مشورہ کے بعد عمل میں حرج نہیں۔
ففی رد المحتار تحت: (قوله: و التنجيم) هو علم يعرف به الاستدلال بالتشكلات الفلكية على الحوادث السفلية. اهـ. ح. و في مختارات النوازل لصاحب الهداية أن علم النجوم في نفسه حسن غير مذموم، إذ هو قسمان: حسابي و إنه حق، و قد نطق به الكتاب. قال الله تعالى - ﴿الشمس والقمر بحسبان﴾ (الرحمن: 5)- أي سيرهما بحساب. و استدلالي بسير النجوم و حركة الأفلاك على الحوادث بقضاء الله تعالى و قدره، و هو جائز كاستدلال الطبيب بالنبض من الصحة و المرض و لو لم يعتقد بقضاء الله تعالى أو ادعى الغيب بنفسه يكفر، ثم تعلم مقدار ما يعرف به مواقيت الصلاة و القبلة لا بأس به. اهـ. و أفاد أن تعلم الزائد على هذا المقدار فيه بأس بل صرح في الفصول بحرمته و هو ما مشى عليه الشارح. و الظاهر أن المراد به القسم الثاني دون الأول؛ و لذا قال في الإحياء: إن علم النجوم في نفسه غير مذموم لذاته إذ هو قسمان إلخ ثم قال و لكنه مذموم في الشرع. و قال عمر: تعلموا من النجوم ما تهتدوا به في البر و البحر ثم امسكوا، و إنما زجر عنه من ثلاثة أوجه:
أحدها: أنه مضر بأكثر الخلق، فإنه إذا ألقى إليهم أن هذه الآثار تحدث عقيب سير الكواكب وقع في نفوسهم أنها المؤثرة،
و ثانيها: أن أحكام النجوم تخمين محض، و لقد كان معجزة لإدريس - عليه السلام - فيما يحكى و قد اندرس.
و ثالثها: أنه لا فائدة فيه، فإن ما قدر كائن و الاحتراز منه غير ممكن اهـ ملخصا اھ (1/44)۔
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0