السلام علیکم! میرا نام احمد نواز ہے اور میں شارجہ میں ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کر تاہوں ۔جناب میں کئی مہینوں سے ایک عجیب ذہنی عذاب سے گزر رہا ہوں۔ براہ کرم اپنے علم اور تجربے سے میری رہنمائی فرما دیجیے ، کیو نکہ میں تو یہی سمجھ رہاہوں کہ شاید میں مسلمان ہی نہیں رہاہوں۔ "الحمد للہ " میں پابندی سے پانچ وقت نماز باجماعت پڑھتا ہوں اور پوری کوشش ہوتی ہے کہ پورے خشوع خضوع سے پڑھوں، میرے ذہن میں عجیب عجیب، بلکہ کافرانہ خیالات آتے ہیں، یہاں تک کہ محمد ﷺ کے بارے میں بھی جسے میں یہاں پہ بیان کرنے سے قاصر ہوں ۔ لیکن اللہ کرےآپ میری منشاء جان سکیں"آمین" کبھی کبھی ا"للہ رب العزت" کے بارے میں بھی ، اور میں پوری کوشش کرتاہوں اور اللہ سے مدد بھی مانگتا ہوں کہ میرا ذہن خیالات سے خالی ہو جائے ۔
سوال میرا یہ ہے کہ ایسے خیالات پر جنہیں ہم نہ چاہتے ہوں اور وہ ہمارے ذہن میں آتے ہوں ،کیا اس پر بھی ہم اللہ کے سامنے جواب دہ ہونگے ؟کیاایسے نہ چاہتے ہوئے خیالات میں بھی جو گستاخی ہو رہی ہو محمد ﷺ کی شان میں، اس کا کیا ہوگا؟میں بڑی تکلیف سے یہ لکھ رہاہوں، براہ مہربانی مجھے تفصیلی جواب دیں ۔اور مجھے کوئی وظیفہ بھی بتا دیں۔
غیر اختیاری طور پر نہ چاہتے ہوئے، بلکہ ناپسند یدگی کے باوجود جو خیالات اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کے آتے ہیں، اس سے نہ کفر لازم آتا ہے ۔اور نہ دیگر عبادات کی صحت پر اس سے اثر پڑتا ہے، بلکہ احادیث مبارکہ میں اس قسم کے خیالات کی ناپسندیدگی کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ۔،اس لیے سائل کو چاہیے کہ بلاوجہ پریشان ہو نے کے بجائے اس قسم کے خیالات پر قطعاً توجہ نہ دے اور تیسرے کلمہ کا ورد رکھے انشاءاللہ یہ خیا لات جاتے رہیں گے۔
ففی صحيح مسلم: عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم * إن الله عز وجل تجاوز لأمتي عما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تكلم- (1 / 116)
و فی شرح النووي على مسلم: مذهب القاضي أبى بكر بن الطيب أن من عزم على المعصية بقلبه ووطن نفسه عليها أثم فى اعتقاده وعزمه ويحمل ما وقع فى هذه الاحاديث وأمثالها على أن ذلك فيمن لم يوطن نفسه على المعصية وانما مر ذلك بفكره من غير استقرار- (2 / 151)
و فی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وما كان خطأ من الألفاظ ولا يوجب الكفر فقائله يقر على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك - (4 / 247) واللہ أعلم بالصواب!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0