کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک قرآن پاک میں ایک فالنامہ دیکھا اور نکالا بھی، اس میں سورتیں اور درود شریف پڑھ کر فال نکالتے ہیں، کیا اس پر یقین رکھنا جائز ہے، کیونکہ یہ قرآن پاک کی کسی آیت کا ترجمہ ہوتا ہے، لہٰذا ایسا فال نکالنا اور نکلوانا جائز ہے یا ناجائز؟ اگر جائز نہیں ہے تو بہت سے بزرگوں کی کتابوں میں ( جیسے آئنہ عملیات وغیرہ) یہ کیوں لکھے ہوئے ہیں؟
قرآن مجید یا کسی اورکتاب سے فال نکالنا ناجائز ہے، خصوصاً قرآن مجید سے فال نکالنا تو بہت سخت گناہ ہے، کیونکہ اس سے بسا اوقات قرآن مجید کی توہین یا اس کی طرف بدعقیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ نیز یہ بات کہ فالنامہ قرآن کی کسی آیت کا ترجمہ ہوتا ہے محض غلط ہے اور اس پر یقین کرنا بھی درست نہیں۔ اس سے مکمل احتراز کریں۔(از کفایت المفتی ج:۹)
ففی حاشية ابن عابدين: والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة (إلی قوله) والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر. وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه. (4/ 242) واللہ أعلم بالصواب!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0