کیا میں حق مہر زیورات کی صورت میں ادا کر سکتا ہوں یا اس کی ادائیگی نقد یا بصورت چیک صحیح ہوگی؟ کیا ادائیگی کا طریقہ بیوی کو نکاح سے پہلے ہی بتانا چاہیئے ؟ اگر مجھے حق مہر نقد یا بصورت چیک ادا کرنا ہو تو کیا ایسا کر سکتا ہوں کہ کچھ رقم نکاح کے وقت اور کچھ رقم بعد میں ادا کردوں؟ مثلاً: ایک دو سال میں ، کیا بعد کیلئےکوئی متعین وقت بھی نکاح نامہ میں لکھوانا ہوتا ہے؟
حق مہر کی رقم اگر فی الفور (معجل ) دینا طے ہو تو اس صورت میں فوری نکاح کے وقت ادا کرنا لازم ہوتا ہے ،جبکہ ادائیگی کی کوئی مدت متعین (یعنی مؤجل ) ہو تو میاں بیوی کی باہمی رضا مندی سے کسی بھی طرح نقدی، زیورات یا جنس کی صورت میں اسکی ادائیگی کی جاسکتی ہے، اس میں شرعی اعتبار سے کوئی پابندی نہیں۔
کما في الدر المختار: (أقله عشرة دراهم) لحديث البيهقي وغيره «لا مهر أقل من عشرة دراهم» ورواية الأقل تحمل على المعجل (فضة وزن سبعة) مثاقيل كما في الزكاة (مضروبة كانت أو لا) ولو دينا أو عرضا قيمته عشرة وقت العقد، أما في ضمانها بطلاق قبل الوطء فيوم القبض (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) ۔اھ (3/102)
وفی البحر الرائق: ومن احكام المهر أنه يصح تأجيله إلى وقت مجھول کالحصاد والدياس۔اھ (3/143)
وفی بدائع الصنائع: وإذا طالبت المرأة بالمهر يجب على الزوج تسليمه ۔اھ (2/ 288)