السلام علیکم!
عرض ہے کہ میرا نکاح اپریل 2006ءمیں ہوا ،نکاح میں حق مہر کی درجِ ذیل سطریں لکھی گئیں: میرا نکاح اپریل میں مبلغ تین لاکھ چھیاسی ہزار (386,000) روپے بتفصیل و ادائیگیِ ذیل ہوا:
زیورات طلائی وزنی بارہ تولے، مالیتی ایک لاکھ چھیاسی (186,000) روپے سالم بوقت نکاح دیے گئے، اور مبلغ دو لاکھ (200,000) روپے نقد عند الطلب مسماۃ مذکورہ کو دیے جائیں گے۔
عرض ہے کہ شادی کے پانچ سال بعد طلاق واقع ہو گئی، اور میں نے مہر میں درج دو لاکھ روپے مطلقہ مسماۃ کو ادا کر دیے ، جبکہ مہر میں درج نکاح کے وقت نقد ادا کرنے والا حصہ (زیورات طلائی وزنی بارہ تولے، مالیتی ایک لاکھ چھیاسی (186,000) روپے سالم بوقت نکاح دیے گئے) در حقیقت میں نے ادا نہیں کیاہے، فتوی درکار ہے کہ حق مہر میں درج (زیورات طلائی وزنی بارہ تولے، مالیتی ایک لاکھ چھیاسی (186,000) روپے سالم بوقت نکاح دیے گئے) کے مطابق اب مطلقہ مسماۃ کو درج ذیل میں سے کیا ادائیگی کروں؟ ایک لاکھ چھیاسی ہزار (186,000) روپے جوکہ اس وقت زیورات کی قیمت تھی یا بارہ تولے طلائی زیورات؟ ہمارے علاقے میں عموماً طلائی زیورات سے مراد سونے کے زیورات ہوتے ہیں ؟ براہِ مہربانی شریعت کی رو سے رہنمائی فرمائیں۔
سائل کے ذمہ بقیہ ایک لاکھ چھیاسی (186,000) روپے کی ادائیگی لازم ہے، اب اگر سونے کی صورت میں دینا چاہے اور بیوی بھی راضی ہو تو اتنی مالیت کے زیورات بھی دے سکتا ہے۔
كما في الهداية: ومن سمى مهرا عشرة فما زاد فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها " لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بانتهائه يتقرر ويتأكد فيتقرر بجميع مواجبه۔اھ (2/324)