السلام علیکم ! میرا ایک بھائی جو سرکاری ملازم تھا ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات ہوا ہے ۔ میرے بھائی اور اس کی بیوی نے میرے بھائی کی وفات سے پہلے اپنا زیور بھیج دیا تھا جو کہ حق مہر میں تھا چار تولہ سونا ۔ جو کہ میاں بیوی کی رضامندی کے ساتھ انہوں نے فروخت کر کے اس رقم سے ایک کمرہ بنایا تھا ۔ اب میرے بھائی کی وفات کے بعد اس کی بیوی میکے جا کر ہم سے حق مہر کی ڈیمانڈ کر رہی ہے ۔ کہ مجھے اپنا حق مہر واپس کر دو ۔ جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے ۔ مجھے یہ رہنمائی چاہیئے کہ اس کا حق مہر اگر ہمارے اوپر واجب الادا ہے تو وہ حق مہر کون دے گا ۔ ہم پیچھے چار بھائی دو بہنیں اور ایک والدہ ہے گھر میں ۔ جبکہ یہ بھائی ہم سے علیحدہ رہا تھا ۔ کیا ہمارے لیے بہن بھائیوں پر یا والدہ پر اس کا حق مہر ادا کرنے کا حق ہے ؟ اگر ہے تو کون ادا کرے گا؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس طور پر کہ سائل کی بیوہ بھا بھی کو اس کے شوہر نے اپنی زندگی میں حق مہر کے طور پر چار تولہ سونا دے دیا ہو ، اس کے بعد اس نے وہ سونا فروخت کر کے اس رقم سے ایک کمرہ تعمیر کروایا ہو تو ایسی صورت میں سائل اور اس کے بہن، بھائیوں کے ذمہ اپنی بیوہ بھابھی کے حق مہر کی ادائیگی لازم تو نہ ہوگی، البتہ اگر مذکور کمرے کی تعمیر سائل کی بیوہ بھابھی کے حق مہر کی رقم سے ہوئی ہو، اس میں شوہر کی کوئی رقم شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ کمرہ سائل کی بیوہ بھابھی کی ملکیت شمار ہو گا، چنانچہ وہ کمرہ یا اس کی موجودہ قیمت بیوہ بھابھی کو دے دینا سائل اور اس کے بہن بھائیوں پر لازم ہو گا ، ، جبکہ اس میں مرحوم کے دیگر ورثاء کا کوئی حق نہ ہو گا۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ثم عرف المهر في العناية بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد اھ (3/ 100)
و في الدر المختار: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، و في أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا اھ (6/ 747)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ (6/ 747) واللہ اعلم بالصواب