اگر ماں کے انتقا ل کے بعد بچے باپ کے پاس نہ رہنا چاہیں ،ذہنی اذیت دینے کی وجہ سے تو کیا حکم ہے ؟
سائلہ نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بچوں کی عمر کتنی ہے اور نہ باپ کی طرف سے ملنے والی اذیت کی صراحت کی ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم بچہ کے سات سال، اور بچی کے نو سال کی عمر تک پرورش کا حق ماں کی وفات کے بعد نانی، دادی، خالہ اور پھوپھی وغیرہ کو بالترتیب حاصل ہوتا ہے اور مذکور مدت کے بعد باپ بچوں کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے جبکہ بلوغت کے بعد والد سے الگ رہائش اختیار کرنے میں اگر بچوں کے کسی قسم کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں بچے والد سے علیحدہ رہائش اختیار کر سکتے ہیں، لیکن اگر والد خدمت کے محتاج ہوں تو اولاد کے ذمہ اس کی خدمت اور دیکھ بھال کی خاطر اس کے ساتھ رہنا اور اس کی خدمت کرنا بہرحال لازم اور ضروری ہوگا۔
في القرآن المجيد:"وقضٰى ربك الا تعبدوا الّا إيّاه وبالوالدين إحسانا إمّا يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لهما أفّ ولاتنهرهما وقل لهما قولا كريما. واغفض لهما جناح الظل من الرحمة وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا".(سورةبنى إسرائيل،آيت:23،24)
كمافي الدر المختار: (والحاضنة) أما أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع، وبه يفتى لأنه الغالب.. (والأم والجدة أحق بها حتى تحيض وغيرهما أحق بها حتى تشتهي) وقدر بتسع وبه يفتى (إلى قوله).. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الإنفراد فله ذٰلك مؤيد زاده معزيا للمنية وأفاده بقوله (بلغت الجارية مبلغ النساء،إن بكراًضمهاالأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها (وإن ثيباً لا)يضمها (إلا إذا لم تكن مأمونة على نفسها)..(والغلام إذا عقل واستغنىٰ برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه)إلا إذا لم يكن مأموناً على نفسه فله ضمه لدفع فتنة أو عار..الخ(ج:3،ص:566،67،68،مط: سعيد)