میرے بیٹے نے غیر مسلم ملک جا کر اسلام کے بارے میں منفی خیالات اختیار کر لیے ہیں۔ اب والد ہونے کے ناطے میرے لیے بہت مشکل ہو رہا ہے کہ میں کیسا رویہ اختیار کروں ؟شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ والدین اور اولاد کا رشتہ صرف جسمانی نہیں بلکہ ان کے درمیان ایک گونہ روحانی اور ایمانی رشتہ بھی ہوتاہے۔لہذااگرخدانخواستہ اولاد دین سے دور ہو جائے یا اس کے افکار میں اسلام کے بارے میں منفی رجحانات پیدا ہو جائیں، تو بلاشبہہ والدین کے لیے یہ نہایت تکلیف دہ اور آزمائش بھرا مرحلہ ہوتا ہے،تاہم ایسی صورت میں اسلامی شریعت ہمیں جذبات میں بہنے کے بجائے حکمت، صبر، دعا اور شفقت سے کام لینے کی تعلیم دیتی ہے۔لہذاسائل کوبھی چاہیےکہ وہ بھی جلد بازی سے گریز کرے، نرمی، شفقت، اور حکمت سے سمجھائے ،ایسے نوجوان اکثر مغربی افکار، الحاد یا شکوک میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اس لیے جذباتی ردعمل (کفر یا ارتداد کے حکم میں جلد بازی نہ کریں جب تک معاملہ واضح نہ ہو )کے بجائے ان کی فکری اصلاح کے لیے عقلی و حکیمانہ گفتگو، ایمان افروز کتب، یا علمی و فکری داعیوں کی تقریریں سنانا مفید ہوگا۔اگر ممکن ہو تو بیٹے کو ایسے ماحول سے جوڑا جائے جہاں نیک، سمجھ دار، مہذب، اور فکری طور پر مضبوط مسلمان نوجوان موجود ہوں۔ یہ صحبت آہستہ آہستہ اثر ڈالتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الرجل على دين خليله» فلينظر أحدكم من يخالل. «سنن الترمذي» (4/ 187)
ترجمہ:"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر شخص دیکھے کس سے دوستی کرتا ہے۔"
انبیائے کرام ؑ کی سنت کے مطابق دعاؤں کو اپنا ہتھیار بنائے خصوصا ہر نماز کے بعد، تہجد میں اور خاص مواقع پر اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی ہدایت کی التجا کرے۔ سائل کی دعا، صبر اورشفقت یقینا اس کی ہدایت کا وسیلہ بن جائےگی ،ان شاءاللہ ۔