کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کچھ عرصہ قبل میری بہن کا ایک شخص سے نکاح ہوا اور رخصتی بھی ہو گئی ، لیکن ان کے درمیان تعلقات اچھے نہ رہے اور اب میرا بہنوئی میری بہن کو طلاق دینا چاہتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ طلاق ہو جانے کی صورت میں کن چیزوں پر میری بہن کا حق ہے ، مہر کی ادائیگی شوہر نے کر دی ہے ، اور ان کو ہم نے جو جہیز کا سامان دیا تھا وہ بھی ہم نے واپس لے لیا ہے، لیکن سسرال والوں کی طرف سے لڑکی کو جو چیزیں دی گئی تھیں۔ وہ انہوں نے واپس لے لی ، کیا ان چیزوں پر ہماری بہن کا حق ہے یا نہیں؟ اور اسی طرح عدّت کے ایام کا خرچہ ان کے ذمہ لازم ہوگا یا نہیں ؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر مشکور ہوں ۔
اولاً تو سائل کی بہن ،بہنوئی اور فریقین کے اہلِ خانہ کو چاہیئے کہ آپس کے تعلقات کو درست کرنے اور اس گھر کو بسانے کی ہر ممکن کوشش کریں اور بلا وجہ طلاق دینے یا لینے سے گریز کریں، تاہم اگر نباہ ممکن نہ ہو اور کسی شرعی عذر کی وجہ سے سائل کا بہنوئی طلاق دے دیتا ہے تو صورتِ مسئولہ میں طلاق کے بعد سسرال والوں نے جو کچھ دیا اس کا حکم یہ ہے کہ انہوں نے جو زیو رو غیرہ دیے تھے وہ چونکہ عرفاً مستعار سمجھے جاتے ہیں لہذا لڑکی کے سسرال والے اسے واپس لے سکتے ہیں، البتہ انہوں نے زیور دیتے وقت مالکانہ قبضہ کی صراحت کردی ہو، اسی طرح وہ چیزیں جو لڑکی کے سسرال والوں نے بطورِ ہدیہ دی تھیں اور لڑکی نے قبضہ بھی کر لیا تھا تو لڑکی اس کی مالکہ ہو گئی ہے ، اب ان چیزوں کو لڑکی سے واپس لینا درست نہیں ، جبکہ لڑکی اگر اپنے شوہر کے گھر ہی عدت گزارے گی تو اس کے اخراجات بھی شرعاً شوہر پر لازم ہوں گے۔
کمافی الدرالمختار: (ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا (فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها اھ(3/151)۔
وفیہ ایضاً: (جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته) اھ(3/155)۔
وفی الھدایۃ: علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنیٰ اھ(1/535)۔