کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی کے ساتھ میری شادی ہوئی تھی ۔ اب لڑکی کو شوہر کے والد نے کچھ گھریلو لڑائی کی بناء پر اپنے والد کے گھر لا کر چھوڑ دیا اور لڑکی کا مہر اور والد صاحب کی طرف سے ساڑھے چار تولہ سونا اپنے پاس رکھوا دیا ، اور جہیز کا سامان بھی کچھ دیکر باقی وہ بھی سسر نے اپنے پاس روک لیا۔ اور لڑکی کو دینے کے لئے تیار نہیں ہے، اسی بناء پر پہلے بھی یہاں مسئلہ جمع کر کے ثمن جاری ہوا تھا، لیکن وہ لوگ نہیں آئے، اب آپ حضرات بتائیں کہ جو مہر اور والد صاحب کی طرف سے ملا ہوا سونا اور جہیز کا سامان اس لڑکی کو ملنا چاہیئے یا کیا کرے؟ جبکہ لڑکی کو طلاق بھی نہیں دیا۔ بغیر طلاق کے والد کے گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ اب اس مسئلے کا حل بیان کریں۔
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کا یہ طرزِ عمل شرعاً جائز نہیں، اس پر لازم ہے کہ گھریلو ناچاقی کی وجہ سے اپنے بیٹے کا گھر برباد نہ کرے بلکہ اس معاملہ کو بحسن و خوبی حل کرنے کی سعی کرے اور خاندان کے بڑوں کو بٹھا کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرے اگر اس کے باوجود بھی نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو اور نوبت طلاق تک پہنچ جائے تو علیحدگی کی صورت میں اس کا بیوی کے مہر، زیور اور جہیز کے سامان اور دیگر مملوکہ اشیاء کو روکنا جائز نہیں، اس سلسلہ میں لڑکی اور اس کے رشتہ دار اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے بھی مجاز ہے۔
کمافی الشامیۃ: فان کل احد یعلم ان الجھاز ملک المراۃ وانہ اذا طلقھا تاخذہ کلہ اھ(3/585)۔