میرا نکاح 2023 میں ہوا اور رخصتی 2024 میں ہوئی ، اس پورے عرصہ میں میری امّی اور بھائی نے میرے ساتھ غلط برتاؤ کیا ہے، پھر اللہ نے مجھے مارچ 2025 میں بیٹی سے نوازا۔ میری بیٹی کو گالی دی، اس پورے ٹائم میں کوئی دن نہیں گزرا جب میری زندگی عذاب نہ کی ہو، مجھے، میرے شوہر، میرے شوہر کے خاندان اور میری چھوٹی بچی کو گالی دیتے رہے جب کہ میں نے اولاد کے ہر فرض پورے کیے، اور شادی سے پہلے جب نوکری کرتی تھی اور کما کے دیتی تھی تب بہت اچھے تھے میرے ساتھ میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا میں ان سے رشتہ ختم کرکےاپنی شادی شدہ زندگی پر توجہ مرکوز کر سکتی ہوں اور اگر ان سے کچھ ہوا تو اسکا جرم مجھے لینا چاہیے یا نہیں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائلہ کی والدہ اور بھائی کا سائلہ یا ان کے سسرال والوں کو گالیاں دینادرست نہیں ہے ، انہیں اپنے مذکور طرزِ عمل پر توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے مکمل اس سے اجتناب لازم ہے، جبکہ سائلہ کا والدہ کے مذکور رویے کے وجہ ان کی بے اکرامی، بے ادبی یا حق تلفی کرکے والدہ کی دل آزاری کا سبب بننا یا قطع تعلق کرنا درست نہیں ، بلکہ ان کو چاہیئے کہ والد ہ کے حقوق اور ادب و احترام کا بھرپور اہتمام کریں، انشاء اللہ امید ہے کہ یہ ان کی خوش بختی اور سعادت مندی کا ذریعہ ہوگا ۔
تاہم اس تمام تر صورت حال میں اگر سائلہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ ملنے جلنے کی وجہ سے اپنے گھر اور رشتہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں ان کے ساتھ تعلقات محدود کرنے اور بقدر ضرورت آمد وررفت رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ مکمل قطع تعلق کرنا پھر بھی جائز نہ ہوگا جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔
کما صحیح مسلم: عن شعبۃ قال سمعت العلاء بن عبدالرحمن یحدّث عن ابیہ، عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رجلًا قال: یارسول اللہ إن لی قرابۃً أصلھم ویقطعونی و أحسن إلیھم ویسیئون إلی و أحلم عنھم ویجھلون علیّ فقال لئن کنت کما قلت فکأنما تسفھم المل ولا یزال معک من اللہ ظھیر علیھم مادمت علی ذلک الخ (باب صلۃ الرحم وتحریم قطیعتھا، کتاب البر و الصلۃ و الأدب، رقم الحدیث، 2558، ج: 2، ص: 1283، ط: البشری)۔
وفی الدر: (وصلۃ الرحم واجبۃ ولو) کانت(بسلام وتحیۃ وھدیۃ) ومعاونۃ ومجالسۃ ومکالمۃ وتلطف وإحسان ویزورھم غباً لیزید حبا بل یزور أقرباءہ کل جمعۃ أو شھر ولا یرد حاجتھم لأنہ من القطیعۃ فی الحدیث (إن اللہ یصل من وصل رحمہ ویقطع من قطعھا) الخ۔
وفی الشامیۃ تحت (قولہ وصلۃ الرحم واجبۃ) نقل القرطبی فی تفسرہ إتفاق الأئمۃ علی وجوب صلتھا وحرمۃ قطعھا للأدلۃ القطیعۃ من الکتاب و السنۃ علی ذلک قال فی تبیین المحارم واختلفوا فی الرحم التی یجب صلتھا قال قوم: ھی قرابۃ کل ذی رحم محرم و قال آخرون کل قریب محرماً کان أو غیرہ اھ والثانی ظاھر إطلاق المتن قال النووی فی شرح مسلم وھو الصواب و استدل علیہ بالأحادیث نعم تتفاوت درجاتھا ففی الوالدین أشد من المحارم وفیھم أشد من بقیہ الأرحام الخ۔ ( فصل فی البیع، کتاب الحظر والإباحۃ، ج: 6، ص: 311، ط: سعید)۔