کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مسجد میں پانی کا انتظام نہیں ہے لہذا مسجد کے سامنے ایک پڑوسی کی ذاتی تالاب ہے اب مسجد کے متولی اور نمازی حضرات کا یہ مشورہ ہے کہ اگر ہم پڑوسی کی رضامندی سے اس کے ذاتی تالاب میں ایک ٹینکر پانی مسجد کے وقف رقم سے ڈال دیں اور دو ٹینکر پانی وہ خود اپنے پیسوں سے ڈال دے اس طرح ہم مشترکہ طور پر مسجد کی ضروریات میں پانی استعمال کریں اوروہ اپنے گھر کی ضروریات میں تو اس طرح کا معاملہ شرعاً درست ہوگا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں رقم دینے والے کی اجازت یا ان کے علم میں لا کر مسجد کی رقم سے انتظامی مجبوری کی بنا پر اگرچہ وقتی طور پر پانی کا ٹینکر خرید کر مذکور شخص کے تالاب میں ڈالنا اور پھر مشترک پانی میں سے پانی مسجد کی ضروریات کے لئے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ مسجد میں اس پانی میں سے کم از کم تہائی پانی استعمال میں آنا یقینی ہو، تاہم منتظمین کو چاہیئے کہ وہ مسجد کے لئے الگ سے کسی تالاب مہیا کرنے کی کوشش کرے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
کما فی الھندیۃ: وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة الخ ( کتاب الوقف، ج: 2، ص: 463، ط: ماجدیۃ )۔
و فی البحر الرائق: وفي الإسعاف وليس لمتولي المسجد أن يحمل سراج المسجد إلى بيته ولا بأس بأن يترك سراج المسجد فيه من المغرب إلى وقت العشاء ولا يجوز أن يترك فيه كل الليل إلا في موضع جرت العادة فيه بذلك كمسجد بيت المقدس ومسجد النبي صلى الله عليه وسلم والمسجد الحرام أو شرط الواقف تركه فيه كل الليل كما جرت العادة به في زماننا الخ ( کتاب الوقف، ج: 5، ص: 420، ط: رشیدیۃ )۔