السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے ، کیافرماتے ہیں حضرات علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کے ساتھ واش روم ہیں ان واشرومز کی نیچے والی منزل پر جائے نماز برائے مستورات ہے ، اس سے نیچی والی منزل پر امام صاحب کے لیئے فیملی رہائش گاہ بنانا چاہتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ جائے نماز برائے مستورات والا حصہ شرعاً مسجد کے حکم میں ہے ؟ کیا اس جگہ پر اعتکاف کیا جا سکتا ہے ؟ نمبر 2 : اس سے نیچی والی منزل پر امام صاحب کے لیئے فیملی رہائش گاہ بنانا کیسا ہے ؟ کیا فیملی رہائش گاہ جس میں کمرے کچن اور واش روم شامل ہے بنا سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ عموماًمسجد کے بیت الخلاؤں کا حصہ شرعی مسجد کا حصہ نہیں ہوتا لہٰذا اس مسجد کی صورتحال بھی ایسی ہو ، تو اس کے تحتانی منزل میں عورتو ں کی نماز کے لئے مختص کردہ جگہ پر مسجد شرعی کا اطلاق نہ ہوگا،لہٰذا اس میں مسنون اعتکاف کرنا بھی درست نہ ہوگا، البتہ اس حصہ پر امام کے لئے رہائش بنانا شرعاً درست ہوگا۔
کما فی البحرائق: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح الخ (ج:5،ص:271، ناشر: دارلکتاب الاسلامی)
وفی فتح القدیر: ثم بين أن ركنه اللبث بشرط الصوم والنية، وكذا المسجد من الشروط أي كونه فيه، وهذا التعريف على رواية اشتراط الصوم له مطلقا لا على اشتراطه للواجب منه فقط اھ(باب الاعتکاف،ج:2، ص؛390، ناشر: بیروت)
ففی الخانیة: "وما فيه مصلحة للمسجد على أن القيم أن یتصرف في ذلك ما يرى فیه (۵/٨٥٧)