مقتدی مسجد کےامام کے پاس مسجد کے پانی کے لئے پیسہ جمع کرتے ہیں یا کبھی چندہ کرتاہے، اگر پانی موجود ہو تو وہ پیسہ اپنے استعمال میں لاتا ہے ،جب پانی ختم ہو تو پانی پھر ڈالتا ہے ۔تو وہ استعمال میں لانا پیسوں کا اس کے لئے جائز ہے؟ یا دینے والوں سے اجازت لینا ہوگا؟انتظامیہ خود بھی چندہ کرکے مسجد کے کسی بھی کام میں وہ پیسہ نہیں لگاتے ،لیکن امام لگاتا ہے اور خود استعمال بھی کرتا ہے تو لوگو کا امام پر بھروسہ ہے اسے پیسہ دیتے ہیں لیکن انتظامیہ کو نہیں دیتے ان پر بھروسہ بھی نہیں۔
واضح ہو مسجد کے مصارف کے لئے جمع شدہ رقم کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے خواہ یہ رقم امام مسجد کے پاس جمع ہو یا کمیٹی کے پاس دونوں کے لئے اس رقم کو مسجد کے اس متعین مصارف کے علاوہ کسی دوسری جگہ خرچ کرنا یا وقتی طور پر اپنے استعمال میں لانا ( اگرچہ بعد میں مسجد کی رقم میں واپس جمع کی جاتی ہو) شرعاً جائز نہیں ۔لہذا اگر سوال میں مذکور امام صاحب واقعۃً مسجد کے چندہ سے کچھ رقم چندہ دہندگان کی اجازت کے بغیر وقتی طور پر اپنی ضروریات میں خرچ کرتا ہو، تو ان کا یہ طرز عمل شرعاً درست نہیں اس لئے انہیں اس طریقہ کار سے اجتناب لازم ہے،البتہ اگر مجبوری میں اس طرح رقم سے خرچ کرنے کی ضرورت پیش آجائے اور اس وقت وہ رقم مسجد کی اخراجات سے زائد بھی ہو تو مسجد انتظامیہ کے علم میں لانے اور چندہ دہندگان کی اجازت کے بغیر بطور قرض اس رقم کو خرچ کرنے کی گنجائش ہو سکتی ہے، تاہم بعض اہل علم اس کی بھی اجازت نہیں دیتے اس لئے اس سے بھی اجتناب بہتر ہے۔
کما فی الھندیۃ: وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة الخ (کتاب الوقف، ج: 2، ص: 463، ط: ماجدیۃ)۔
و فی البحر الرائق: قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز. الخ (تصرفات الناظر فی الوقف، ج: 5، ص: 259، ط: رشیدیۃ)۔