السلام علیکم مفتی صاحب!
ہمارے محلے کی مسجد کا ہال چھوٹا ہے اور نمازی زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے مسجد کو آگے بڑھانے کا ارادہ ہے۔ ہال کے سامنے ایک جگہ ہے جس کے نیچے گٹر (سیوریج) کا پائپ گزرتا ہے۔ ہم اس کے اوپر مٹی ڈال کر مضبوط فلور اور ٹائل لگا کر نماز پڑھنے کا سوچ رہے ہیں۔
کیا شرعی لحاظ سے ایسی جگہ نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیں۔
واضح ہو کہ نماز کی صحت کی شرائط میں سے ایک شرط جگہ کا پاک ہونا ہے یعنی جس جگہ پر نماز پڑھی جاتی ہو اس جگہ کا ظاہری نجاست سے پاک صاف ہونا ضروری ہے نجس جگہ پر نماز پڑھنا درست نہیں ،لہذا صورت مسؤلہ میں مذکور جگہ اگر مسجد کا حصہ یا مسجد کیلئے وقف کردہ نہ ہو بلکہ عام شاہراہ یا راستہ وغیرہ ہو تو اس حصے کو حکومتی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر مسجد کا حصہ بنانا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے البتہ شرعی مسجد میں شامل کئے بغیر محض وقتی ضرورت کے طور پر استعمال کیلئے اس جگہ کو پختہ بنا کر صاف ستھرا رکھنے کی صورت میں اس پر پڑھی جانے والی نماز شرعاً درست ادا ہوئی ،البتہ جہاں نماز پڑھنے سے عوام الناس کو تکلیف ہوتی ہو ایسی جگہ پر نماز پڑھنے سے اجتناب ضروری ہے ۔
کما فی کنز العمال: سبع مواطن لا تجوز فيها الصلاة: ظاهر بيت الله، والمقبرة، والمزبلة، والمجزرة، والحمام، وعطن2 الإبل، ومحجة3 الطريق،اھ(كتاب الصلاة،ج: 7،ص: 339،رقم: 19165،مط: مؤسسۃ الرسالۃ)
و فی الھندیه: تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب، اھ (کتاب الصلاۃ،الفصل الأول فی الطھارۃ وستر العورۃ،ج: 1،ص: 58،مط: دارالفکر بیروت ۔)
و فیها ایضاً: وأداء الصلاة على مكان طاهر أقرب إلى التعظيم، فكان طهارة مكان الصلاة شرطا، وقد روي عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن الصلاة في المزبلة، والمجزرة، ومعاطن الإبل، وقوارع الطريق، والحمام، والمقبرة، وفوق ظهر بيت الله – تعالی،اھ (كتاب الصلاة،ج: 1،ص: 115،مط: دار الفکر بیروت)
و فی الدر: باب شروط الصلاة هي ثلاثة أنواع: شرط انعقاد: كنية، وتحريمة، ووقت، وخطبة: وشروط دوام، كطهارة وستر عورة، واستقبال قبلة. وشرط بقاء، فلا يشترط فيه تقدم ولا مقارنة بابتداء الصلاة وهو القراءة،الی قولہ،(ومكانه) أي موضع قدميه أو إحداهما إن رفع الأخرى وموضع سجوده اتفاقا في الأصح اھ (باب شروط الصلاة،ج: 1،ص: 401،مط: دارالفکر بیروت)