السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! میں ایک شرعی مسئلہ کے بارے میں رہنمائی (فتویٰ) چاہتا ہوں۔میرے والد نے اپنی تمام زرعی زمین اور جائیداد، جو انہیں وراثت میں ملی تھی، اپنی دوسری بیوی کے نام کر دی ہے، جبکہ ان کی پہلی بیوی (میری والدہ) اور چار بچے موجود ہیں (دو بیٹے، دو بیٹیاں)، اور میں سب سے بڑا بیٹا ہوں۔ دوسری شادی کو تقریباً 22 سال ہو چکے ہیں۔میرے والد پہلی بیوی اور بچوں کو چھوڑ چکے ہیں اور کسی قسم کا نفقہ یا خرچ نہیں دیتے، حتیٰ کہ فطرہ بھی ادا نہیں کرتے۔ ایک مقامی عالم نے کہا ہے کہ چونکہ جائیداد والد کی ہے، اس لیے وہ جس کے نام چاہے کر سکتے ہیں اور اولاد مطالبہ نہیں کر سکتی۔
براہِ کرم شرعاً رہنمائی فرمائیں کہ کیا والد کا ساری وراثتی جائیداد صرف دوسری بیوی کے نام کرنا جائز ہے؟ کیا پہلی بیوی کو نفقہ نہ دینا درست ہے؟اس صورت میں پہلی بیوی اور بچوں کے کیا شرعی حقوق بنتے ہیں؟جزاکم اللہ خیراً۔والسلام
اسد محمد خان
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے والد نے اپنی تمام جائیداد اپنی دوسری بیوی کے نام کرکے مکمل مالکانہ قبضہ بھی دے دیا ہو تو اس طرح کرنے سے اگرچہ ہبہ درست اور تام شمار ہوگا۔
البتہ بلاوجہ محض محروم کرنے کی نیت سے تمام جائیداد دوسری بیوی کو ہبہ کرنا اور پہلی بیوی اور اولاد کو محروم کرنا سخت گناہ ہے جس سے سائل کے والد کو احتراز لازم ہے ورنہ مؤاخذۂ اُخروی سے سبکدوشی نہ ہوسکے گی ۔
لیکن اگر انہوں نے مذکور جائیداد دوسری بیوی کے محض نام کی ہو ،اسے باضابطہ قبضہ نہ دیا ہو بلکہ عملی تصرفات و اختیارات سائل کے والد کے ہی چلتے ہوں تو اس طرح محض کاغذات میں نام کرنے سے دوسری بیوی جائیداد کی مالک نہیں بنی بلکہ سائل کے والد ہی بدستور اب بھی مالک ہیں اور بعد از انتقال اس میں وراثت جاری ہوگی جس کے نتیجے میں سائل، اس کی والدہ اور دیگر بہن بھائی اپنے اپنے حصصِ شرعیہ کے تناسب سے حقدار ٹھہریں گے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کی والدہ اور غیر شادی شدہ بہنوں کا خرچہ ان کے والد کے ذمہ لازم ہے۔ سائل کی والدہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شوہر سے نان نفقہ کا مطالبہ کرے۔ انکار کی صورت میں وہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتی ہے۔
کما فی مشکوٰۃ المصابیح : وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه. (کتاب الوصایا ج:2 ص:926 ط:المکتب الاسلامی)۔
و فیہ ایضاً: وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: أكل ولدك نحلت مثله؟ قال: لا قال: فأرجعه و في رواية ...... قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم.( باب العطایا ج:1 ص:261 ط: قدیمی۔کراتشی)۔
و فی الفتاوی الھندیہ: تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة.الخ (كتاب الطلاق الباب التاسع عشر فی النفقات ج:1 ص:544 ط: رشیدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة الخ(كتاب الطلاق الباب التاسع عشر فی النفقات ج:1 ص:563 ط: رشیدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء و يكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان الخ(الباب السادس فی هبة الصغیر ج:4 ص:391 ط: رشیدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: ولایتمّ حکم الھبة الّا مقبوضة و یستوی فیه الأجنبی و الولد اذا کان بالغا ،ھٰکذا فی محیط البرھانی. الخ( کتاب الھبة الباب الثانی فیما یجوزمن الھبة ج:4 ص:377 ط: رشیدیة)۔