شوهر و بیوی کے حقوق

بیوی اور بچوں کے حقوق نہ ادا کرنے والے شوہر کیلئے حکم

فتوی نمبر :
92945
| تاریخ :
2026-03-05
معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / شوهر و بیوی کے حقوق

بیوی اور بچوں کے حقوق نہ ادا کرنے والے شوہر کیلئے حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! میں ایک شرعی مسئلہ کے بارے میں رہنمائی (فتویٰ) چاہتا ہوں۔میرے والد نے اپنی تمام زرعی زمین اور جائیداد، جو انہیں وراثت میں ملی تھی، اپنی دوسری بیوی کے نام کر دی ہے، جبکہ ان کی پہلی بیوی (میری والدہ) اور چار بچے موجود ہیں (دو بیٹے، دو بیٹیاں)، اور میں سب سے بڑا بیٹا ہوں۔ دوسری شادی کو تقریباً 22 سال ہو چکے ہیں۔میرے والد پہلی بیوی اور بچوں کو چھوڑ چکے ہیں اور کسی قسم کا نفقہ یا خرچ نہیں دیتے، حتیٰ کہ فطرہ بھی ادا نہیں کرتے۔ ایک مقامی عالم نے کہا ہے کہ چونکہ جائیداد والد کی ہے، اس لیے وہ جس کے نام چاہے کر سکتے ہیں اور اولاد مطالبہ نہیں کر سکتی۔
براہِ کرم شرعاً رہنمائی فرمائیں کہ کیا والد کا ساری وراثتی جائیداد صرف دوسری بیوی کے نام کرنا جائز ہے؟ کیا پہلی بیوی کو نفقہ نہ دینا درست ہے؟اس صورت میں پہلی بیوی اور بچوں کے کیا شرعی حقوق بنتے ہیں؟جزاکم اللہ خیراً۔والسلام
اسد محمد خان

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے والد نے اپنی تمام جائیداد اپنی دوسری بیوی کے نام کرکے مکمل مالکانہ قبضہ بھی دے دیا ہو تو اس طرح کرنے سے اگرچہ ہبہ درست اور تام شمار ہوگا۔
البتہ بلاوجہ محض محروم کرنے کی نیت سے تمام جائیداد دوسری بیوی کو ہبہ کرنا اور پہلی بیوی اور اولاد کو محروم کرنا سخت گناہ ہے جس سے سائل کے والد کو احتراز لازم ہے ورنہ مؤاخذۂ اُخروی سے سبکدوشی نہ ہوسکے گی ۔
لیکن اگر انہوں نے مذکور جائیداد دوسری بیوی کے محض نام کی ہو ،اسے باضابطہ قبضہ نہ دیا ہو بلکہ عملی تصرفات و اختیارات سائل کے والد کے ہی چلتے ہوں تو اس طرح محض کاغذات میں نام کرنے سے دوسری بیوی جائیداد کی مالک نہیں بنی بلکہ سائل کے والد ہی بدستور اب بھی مالک ہیں اور بعد از انتقال اس میں وراثت جاری ہوگی جس کے نتیجے میں سائل، اس کی والدہ اور دیگر بہن بھائی اپنے اپنے حصصِ شرعیہ کے تناسب سے حقدار ٹھہریں گے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کی والدہ اور غیر شادی شدہ بہنوں کا خرچہ ان کے والد کے ذمہ لازم ہے۔ سائل کی والدہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شوہر سے نان نفقہ کا مطالبہ کرے۔ انکار کی صورت میں وہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکوٰۃ المصابیح : وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه. (کتاب الوصایا ج:2 ص:926 ط:المکتب الاسلامی)۔
و فیہ ایضاً: وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: أكل ولدك نحلت مثله؟ قال: لا قال: فأرجعه و في رواية ...... قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم.( باب العطایا ج:1 ص:261 ط: قدیمی۔کراتشی)۔
و فی الفتاوی الھندیہ: تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة.الخ (كتاب الطلاق الباب التاسع عشر فی النفقات ج:1 ص:544 ط: رشیدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة الخ(كتاب الطلاق الباب التاسع عشر فی النفقات ج:1 ص:563 ط: رشیدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء و يكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان الخ(الباب السادس فی هبة الصغیر ج:4 ص:391 ط: رشیدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: ولایتمّ حکم الھبة الّا مقبوضة و یستوی فیه الأجنبی و الولد اذا کان بالغا ،ھٰکذا فی محیط البرھانی. الخ( کتاب الھبة الباب الثانی فیما یجوزمن الھبة ج:4 ص:377 ط: رشیدیة)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92945کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے بعد بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی اپنے شوہر سے جیب خرچی مانگ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر بیوی کی دلجوئی کے لئے میک اپ کرواسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی شوہرکے مطالبے پر بالوں پر ہرارنگ کرسکتی ہے

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا شوہر اجازت دے تو بیوی روزانہ اپنے والدین کو ملنے جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 5
  • دیور کا بھابھی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • لڑکی کے جہیز کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • سسرال والوں کا بہو سے گھر کا سارا کام لینا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نکاح نامے میں بطور حق مہر سونے کی مقدار لکھی جائے یا مالیت؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • میاں بیوی کے تنازع کا حل

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • اگر ساس بہو کو ناجائز تنگ کرے تو بیٹے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو دیے گئے زیورات کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے والدین کی خدمت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عرصہ سات سال سے بیوی کے ساتھ بات چیت نہ کرنے والے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نافرمان بیوی کے شوہر کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا پہلی بیوی شوہر کو دوسری بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے منع کر سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا بیوی پر شوہر کی ہر بات ماننا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی کے ہمبستری کے مطالبہ پر شوہر کا منع کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • ازدواجی حقوق اور نان و نفقہ ادا نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • گھریلو معاملات درست نہ ہونے پر بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • دو شادیاں کرنے کی صورت میں ہر ایک بیوی کے حقوق

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے والی بیوی کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بھوؤں کو باریک کرنے والی عورت کی نمازکا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات