میری والدہ اپنی زندگی میں کہتی تھیں کہ میرا زیور جس میں 2 کڑے، 2 لاکٹ اور 5 بندے تھے۔ میرے انتقال کے بعد 2 کڑے میری نواسیوں کو دے دینا، میرے 2 لاکٹ بیچ کر صدقہ جاریہ میں ان کی رقم لگا دینا اور یہ 5 بندے میری پوتیوں کو دے دینا۔ ان کے زیور کی کل رقم ان کی پوری جائیداد کے ایک تہائی سے کم ہے۔ ان کا انتقال 2017 میں ہو گیا تھا۔ کیا یہ زیور کی تقسیم ان کے بتائے ہوئے طریقے سے کرنا جائز ہے؟
نواسی اور پوتی حقیقی اولاد کی موجودگی میں چونکہ وارث نہیں بنتی ،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور پوتیاں اور نواسیاں اگر اپنی نانی اور دادای سے وارث نہ بن رہی ہوں تو ان کے حق میں کی گئی مذکور وصیت شرعاً معتبر ہے، اور چونکہ مذکور وصیت کل ترکہ کی ایک تہائی سے کم مال میں ہیں جیسا کہ سوال میں مذکور ہے اس لیے اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے دو کڑے نواسیوں اور پانچ بندے پوتیوں کے درمیان تقسیم کرنا اور بقیہ دو لاکٹ اللہ کے راہ میں دینا شرعاً لازم ہے۔
کمافی الدر المختار:وشرائطها كون الموصي أهلا للتمليك) فلم تجز من صغير ومجنون ومكاتب إلا إذا أضاف لعتقه كما سيجيء (وعدم استغراقه بالدين) لتقدمه على الوصية كما سيجيء (و) كون (الموصى له حيا وقتها) تحقيقا أو تقديرا ليشمل الحمل الموصى له فافهمه فإن به يسقط إيراد الشرنبلالي (و) كونه (غير وارث) وقت الموت (ولا قاتل)الخ(كتاب الوصايا،ج:6،ص:649،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:وركنها قوله:وأوصيت بكذا لفلان وما يجري مجراه من الألفاظ المستعملة فيها)الخ(كتاب الوصايا،ج:6،ص:650،مط:ایچ ایم سعید)