السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے وراثت، ہبہ اور وصیت کے ایک معاملے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔میرے دادا کے 8 بچے تھے، جن میں 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں تھیں۔ میری دادی کا انتقال میرے دادا سے پہلے ہو چکا تھا۔
1۔ میرے والد صاحب کو حکومت کی طرف سے ایک پلاٹ الاٹ ہوا تھا، بعد میں وہ پلاٹ میری دادی کے نام منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد میری دادی نے اپنی زندگی میں وہ پلاٹ ہبہ (گفٹ ) کے ذریعے میرے ایک چچاعبدالطیف کو دے دیا، اور پلاٹ باقاعدہ ان کے نام منتقل بھی ہو گیا۔2۔ میرے دادا نے اپنی زندگی میں اپنا گھر میرے والد صاحب کو ہبہ (گفٹ)کر دیا تھا۔ گھر کا قبضہ بھی والد صاحب کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ گھر کے کاغذات اور لیز بھی والد صاحب کے نام ہیں، اور اس ہبہ پر اس وقت کسی وارث نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔3۔ اس کے بعد میرے دادا نے زبانی یہ وصیت کی کہ میرے والد صاحب اور جس چچا عبدالطیف کودادی نے پلاٹ گفٹ کیا تھا دونوں مل کر تیسرے چچا یعقوب کو ایک گھر لے کر دیں۔ اس زبانی وصیت کے کچھ گواہ بھی موجود ہیں۔
1۔ کیا میرے دادا کی یہ زبانی وصیت شرعاً لازم ہے؟2۔ کیا میرے والد صاحب اور میرے چچا عبدالطیف پر شرعاً لازم ہے کہ وہ اس وصیت کے مطابق چچا یعقوب کو گھر لے کر دیں؟3۔ اگر کچھ ورثاء اس وصیت کو مانتے ہوں اور کچھ نہ مانتے ہوں، تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟4۔ اگر اس زبانی وصیت پر دو گواہ موجود ہوں، تو کیا اس سے شرعی حکم میں کوئی فرق آ جاتا ہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی تفصیلی شرعی رہنمائی فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً۔
واضح رہے کہ وصیت اپنے مال سے متعلق کی جاتی ہے کہ میرا مال میرے مرنے کے بعد فلاں کو دیا جائے، کسی اور کے مال میں تصرف سے متعلق وصیت کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔لہذا سائل کے دادا کی طرف سے سائل کے والد اور چچا کو اس بات کی وصیت کرنا کہ وہ اپنے اپنے مال سے تیسرے چچا کو گھر بنا کر دیں، شرعاً سائل کے والد اور چچا اس پر عمل کرنے کے مکلف نہیں اور نہ ہی اسے پورا کرنا ان پر لازم ہے۔ البتہ اگر صلہ رحمی کی بنیاد پر اور باپ کی بات کا لحاظ رکھتے ہوئے نیز یہ دیکھتے ہوئے کہ دونوں میں سے ہر ایک کو والدین کی طرف سے ان کی جائیداد میں سےمکان مل چکا ہے وہ دونوں مل کر تیسرے چچا کو گھردلا دیں یا حسبِ استطاعت تعاون کریں تو یہ درست ہے اور ایسا ہی کرنا چاہئیے۔
الموسوعة الفقهية الكويتية: ترتيب الحقوق المتعلقة بالتركة: 21 - لا خلاف بين الفقهاء في أن الحقوق المتعلقة بالتركة ليست على مرتبة واحدة، وأن بعضها مقدم على بعض، فيقدم من حيث الجملة تجهيز الميت وتكفينه، ثم أداء الدين، ثم تنفيذ وصاياه، والباقي للورثة. الخ (11/ 216)۔
و فی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: (المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار. (المادة 97) :لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.(بلا سبب شرعي) لأنه بالأسباب الشرعية كالبيع، والإجارة، والهبة، والكفالة، والحوالة يحق أخذ مال الغير. الخ(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية ج:1 ص:98 ط: دار الجیل)۔