السلام علیکم مفتی صاحب !
اکثر بڑی عمر کی خواتین سے سنا ہے کہ ایسے عورت جو حاملہ ہو، اس کا مغرب کے بعد اپنے گھر سے نکلنا خطرناک ہوتا ہے، ایسے کرنے سے انہیں جنات تنگ کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے حمل ضائع ہو جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، برائے مہربانی اسلامی نکتۂ نظر سے آگاہ فرمائیں۔ والسلام
بلا ضرورت نکلنا تو ہر وقت منع ہے، البتہ ضرورتِ شدیدہ کے وقت پردۂ شرعی ملحوظ رکھتے ہوئے محرم کی معیت میں بلاشبہ نکل سکتی ہے،جبکہ مذکور وقت میں نکلنے سے جنات کا اثر ہو جا نا بے بنیاد بات ہے، اس لئے ایسے تو ہمات کو پھیلا نے یا اُن پر یقین کرنے سے احتر از لازم ہے، اور اگر ہر موقع و محل میں پڑھے جانے والے وظائف کا اہتمام کیا جائے ،تو یہ بہت ہی مفید عمل ہے ۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله في سفر) هو ثلاثة أيام ولياليها فيباح لها الخروج إلى ما دونه لحاجة بغير محرم بحر، وروي عن أبي حنيفة وأبي يوسف كراهة خروجها وحدها مسيرة يوم واحد، وينبغي أن يكون الفتوى عليه لفساد الزمان (2/ 464)۔
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0