السلام علیکم! مولانا صاحب! میرا تعلق کوئٹہ سے ہے اور ہمارے ہاں مختلف رسومات اور توہمات پائے جاتے ہیں جس کا مجھے لگتا ہے اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی میں ایک یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ۴۰ دن تک کسی ایسی عورت جو حمل سے ہو، اس سے ملنے نہیں دیا جاتا، یہاں تک کہ آواز بھی سننے نہیں دیتے حاملہ عورت کی اور کہا جاتا ہے کہ اس سے بچے کی صحت خراب ہوتی ہے۔ اس متعلق رہنمائی فرمائیں اور اسلام میں ۴۰ دن تک کے بچے کے متعلق یا ماں کے متعلق کیا چیزیں ہیں جن کا خیال رکھا جائے۔
واضح ہوکہ نوزائیدہ بچے کو حاملہ عورت سے چالیس دن تک دور رکھنے کی جورسم سائل کے علاقہ میں رائج ہے،اس کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں،بلکہ یہ صرف خرافات اور غیر اسلامی توہمات ہیں۔ کیونکہ بیماری اور صحت دینے والی اللہ کی ذات ہے۔ لہذا اس قسم کے معاشرتی یا خاندانی رسم و رواج جوخلافِ شرع ہوں، ان کوترک کرنالازم ہے، البتہ ولادت کے بعد زچہ وبچہ کی صحت کے پیش نظرمناسب دیکھ بھال،آرام اور خوراک ودیگرضروریات کابندوبست کرناضروری ہے۔
کما فی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا عدوى، ولا طيرة، ولا هامة، ولا صفر الخ ( كتاب الطب،ج:7،،ص:135، حدیث نمبر 5757،ط:السلطانية)۔
وفی مسند أحمد: عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم من ردته الطيرة من حاجة فقد أشرك قالوا يا رسول الله ما كفارة ذلك؟قال أن يقول أحدهم: اللهم لا خير إلا خيرك ولا طير إلا طيرك، ولا إله غيرك الخ (ج:6، ص: 472، حدیث نمبر 7045، ط:دار الحديث)۔
وفی صحیح البخاری: عن ابن عباس:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (يدخل الجنة من أمتي سبعون ألفا بغير حساب هم الذين لا يسترقون، ولا يتطيرون، وعلى ربهم يتوكلون).( باب ومن يتوكل على الله فهو حسبه،ج:5، ص: 2375، حدیث نمبر 6107،ط:دار ابن كثير)۔
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0