السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! مجھے تفصیلا اس سوال کا جواب مطلوب ہے ،آج سے کئی سال قبل میرے والدین کی طلاق ہوگئی تھی اور میں والدہ کے پاس ہی رہتا تھا ،لیکن صلح رحمی کے لئے والد اور ددھیال سے بھی ملتا تھا ،جبکہ میرے ننھیال والے ،ددھیال سے رشتہ جوڑنے کو سخت ناپسند کرتے تھے، جبکہ ددھیال والے مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔تقریبا 8 ماہ قبل والد صاحب اور ددھیال والوں نے میری شادی کروادی تھی۔ شادی کے بعد سے اب تک والدہ نہ مجھ سے ملنا پسند کرتیں تھیں ، نہ بات کرتی، کئی بار کوشش کی ہے مگر بے سود اور کئی بار مجھے بددعائیں دے چکیں ہیں۔ میں اپنے طور پر مالی معاونت کرتا ہوں جتنی استطاعت ہے ۔اب مجھے بہت ڈرلگتا کہ میں گناہگار اور نافرمان تو نہیں، کیا مجھے بددعائیں لگیں گی؟ اور مکافات عمل ہوگا میرے ساتھ، ایک خوف ہے جو ہر وقت دل پر سوار ہے۔ براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ
واضح ہو کہ والدین کے درمیان علیحدگی کے بعد اولاد پر جس طرح والدہ کا حق ہوتا ہے ،اسی طرح والد کا بھی حق ہوتا ہے ۔بچوں کا والدین میں سے کسی ایک کے پاس زیر پرورش رہنے کی وجہ سے دوسرے کا حق ختم نہیں ہوتا، لہٰذا سائل کا والدہ کی پرورش میں رہتے ہوئے والد اور ددھیال سے اپنا تعلق بحال رکھنا عین شریعت کے مطابق صلہ رحمی پر مشتمل تھا۔جبکہ سائل کی والدہ یاننھیال کا سائل پر اعتراض کرنا اور ان سے ناراض ہونا یا والدہ کا اسے بددعائیں دینا قطعا جائز نہیں بلکہ وہ باپ اور بیٹے کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کی وجہ سے گنہگار ہورہے ہیں ان پر لازم ہے کہ اپنے اس غیر شرعی طرز عمل سے اجتناب کرتے ہوئے سائل کیساتھ اپنے تعلق کو بحال رکھنے کیساتھ ساتھ والد اور ددھیال سے دور رکھنے سے اجتناب کریں اور سائل کو بھی چاہیئےکہ وہ اپنی والدہ کیساتھ ملنے جلنے اورحسب وسعت مالی تعاون کو برقرار رکھتے ہوئے اسے راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہے،امید ہے کہ وقت کیساتھ سب بہتر ہو جائے گا۔
كما في كلام الله تعالى: {فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا } [الإسراء: 23]
وفيه ايضاً: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا } [الأحقاف: 15]
وفی الدر المختار: (وصلۃ الرحم واجبۃ ولو) کانت (بسلام وتحیۃ وہدیۃ) ومعاونۃ ومجالسۃ ومکالمۃ وتلطف وإحسان ویزورہم غبا لیزید حبا بل یزور أقرباءہ کل جمعۃ أو شہر ولا یرد حاجتہم لأنہ من القطیعۃ فی الحدیث ’’إن اللہ یصل من وصل رحمہ ویقطع من قطعہا‘‘ وفی الحدیث ’’صلۃ الرحم تزید فی العمر‘‘ اھـ۔ ( كتاب الحظر والإباحة ،ج:6، ص:411 ، مط: دار الفكر - بيروت)