السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلےکے بارے میں کہ ہماری سوسائٹی کی مسجد میں ابھی تک KE کی بجلی نہیں ہے، مسجد انتظامیہ اور مسجد کے امام صاحب نے سولر کی بجلی ہونے کے باوجود مسجد میں کنڈے چوری کی بجلی کا انتظام کر دیا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ مہربانی فرما کر رہنمائی کریں کہ اس مسجد میں نماز اور تراویح پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے، فکر ہےکہ ہماری نمازیں خراب نہ ہوں۔ شکریہ۔
بجلی کا کنڈا (غیر قانونی کنکشن) کسی ذاتی جگہ مثلاً گھر، دوکان، کار خانہ وغیرہ یا کسی رفاہی وعوامی مقام، مثلا مسجد، مدرسہ ، ہسپتال وغیرہ میں لگایا جائے، بہر صورت شرعاً ناجائز اور گناہ ہے ، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی مسجد میں اس طرح ناجائز طریقے سے حاصل کی گئی بجلی کا استعمال ہو رہا ہو، تو ایسا کرنا اگرچہ گناہ سے خالی نہیں، لیکن اس سے مسجد میں ادا کی جانے والی نماز اور تراویح درست ادا ہوجائےگی، کیونکہ نماز کی صحت کے لیے جگہ اور برقی سہولت کا حلال ہونا شرط نہیں ،بلکہ طہارت ، قبلہ اور ارکان نماز کی درستگی شرط ہے، لہذا اس مسجد میں نماز اور تراویح ادا کرنا جائز ہے، البتہ انتظامیہ پر لازم ہے کہ فوراً اس ناجائز طریقے کو ختم کر کے قانونی بجلی (جیسے KE یا سولر سسٹم ) کا انتظام کرے ، تاکہ مسجد کی حرمت بھی محفوظ رہے اور گناہ سے بھی بچا جاسکے۔
کما فی شرح المجلۃ: لایجوز لاحد أن یتصرف فی مال الغیر بلا اذنہ الخ (1/262 المادۃ 96)۔