ایک بھائی کی جڑواں بیٹیاں ہوئیں تو سب نے یہی کہا کہ ایک بیٹی اپنے بڑے بھائی جن کی کوئی اولاد نہیں ہے، ان کو دے دو تو انہوں نے نیکی سمجھ کر اپنی بیٹی بھائی کو دے دی ، اس بات کو دس سال ہوگئے ہیں ، بچی وہاں بہت خوش ہے، وہ اس کی اچھی تربیت کررہے ہیں ، مگر جو والدین ہیں، وہ اس بچی کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کر پارہے جیسا اپنے دوسرے بچوں کے ساتھ ہے تو اس بارے میں بتائیں۔
صورت مسئولہ میں ایک بھائی کا اپنی بیٹی تربیت و پرورش کی غرض سے دوسرے بھائی کو دیناشرعاً جائز ہے، لیکن بچی کے حقیقی والدین کو اپنی اس بیٹی کے ساتھ بھی دیگر بچوں کی طرح محبت، شفقت، صلہ رحمی اور عدل کا برتاؤ کرناچاہیے ،بلاوجہ اس کے ساتھ بے رخی اختیار کرنا یا اس کے اور دیگر بچوں میں فرق کرنا درست نہیں ،جس سے احترازچاہیے۔
نیزبچی کی پرورش کرنے والے(چچا ) پر لازم ہے کہ وہ اس بچی کی ولدیت اپنی طرف ہر گز منسوب نہ کرے اور نہ ہی قانونی کا غذات وغیرہ میں ولدیت کے خانہ میں اپنا نام درج کروائے ، کیونکہ یہ بات قرآن وحدیث کی روسے صراحۃً ممنوع ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے، البتہ سرپرست کے خانہ میں اپنا نام درج کرواسکتا ہے۔
کما فی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك اھ (7/283)۔
کما فی صحیح البخاری: حدثنا حامد بن عمر، حدثنا أبو عوانة، عن حصين، عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما، وهو على المنبر يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»، قال: فرجع فرد عطيته (3/158 رقم الحدیث 2587)۔
وفی رد المحتار تحت قولہ (الاقرار بالولد الخ) قال ـ علیہ الصلوٰۃ والسلام ـ حین نزلت آیۃ الملاعنۃ (الی قولہ) وفي الصحیحین عنہ ـ علیہ الصلوٰۃ والسلام ـ (من ادعی أبا فی الإسلام غیر أبیہ وہو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام)۔ الخ (ج۳، ص493 مطلب الحمل يحتمل كونه نفخا باب لعان ط سعید)۔