زکوۃ و نصاب زکوۃ

ذاتی استعمال کے کتنے سونے پر زکوۃ لازم ہو گی؟

فتوی نمبر :
16697
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ذاتی استعمال کے کتنے سونے پر زکوۃ لازم ہو گی؟

1:کیا گھر یا گاڑی لینے کے لیے بینک سے قرضہ منافع پر لے سکتے ہے؟
(۲): اور ذاتی استعمال کی کتنی سونے پر زکوۃ اور کتنی دینی پڑیگی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ نہیں لے سکتے ،کیونکہ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔
۲۔ سونا یا چاندی بصورت ذاتی استعمال میں ہوں یا نہ، بہر دو صورت ان کی ملکیت و جوب زکوۃ کا سبب ہے۔ لہذا یہ خود یا اس کے ساتھ دیگر اموال زکویہ کو ملا کر بقدرِ نصاب اگر بنتے ہوں۔ اور نصاب پر پورا سال قمری بھی گزر جائےتو اس کا چالیسواں حصہ بطور زکواۃ فقراء و مساکین کو دینا لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي مشكوة المصابیح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (۱ / ۲۴۴)۔
وفي سنن الترمذي: عن زينب امرأة عبد الله بن مسعود : قالت خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا معشر النساء ! تصدقن ولو من حليكن فإنكن أكثر أهل جهنم يوم القيامة اھ (3/ 28)۔
وفيه أيضا: عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد عفوت عن صدقة الخيل والرفيق فهاتوا صدقة الرقة من كل أربعين درهما درهما اھ (3/ 16) ۔والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کلیم اللہ حمزہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 16697کی تصدیق کریں
0     907
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات