1۔ گورنمنٹ پراویڈنٹ فنڈ اور ہاؤسنگ اسکیم میں کٹوتی کرتی ہے کیا مجھے ہر سال ان دونوں فنڈوں کی زکوٰۃ دینی چاہیئے ؟ جبکہ یہ پیسے ابھی تک میرے قبضے میں نہیں ہیں یا میں ان کی زکوٰۃ دوں گا جب یہ میرے قبضے میں آئیں ،اور تب مجھے صرف اسی سال کے حساب سے تخمینہ لگا کر زکوۃ دینی ہوگی، اگر میں ہر سال کی زکوۃ دوں تو مجھے کیسے حساب لگانا ہو گا؟ جبکہ میں نے ان دونوں فنڈوں کے پیسوں سے ابھی تک زکوۃ نہیں دی۔
2۔ میں نے عسکری اسلامک میں بینک میں نقد رقم لگائی ہے بینک مجھے نفع دیتا ہے، مگر گورنمنٹ آرڈر کی بناء پر ۱۰ فیصد کاٹتا ہے۔ جب میں حساب لگاؤں گا زکوٰۃ کا اپنے پیسوں سے تو کیا میں گو ر نمنٹ، ٹیکس کے اس ۱۰ فیصد کو زکوۃ کی قیمت سے کم کر سکتا ہوں ۔
1۔ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم پر وصولی سے پہلے زکوۃ لازم نہیں، البتہ جب وصول ہو جائے اورآدمی پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو تو اس پر سال گزر جائے تو تب زکوۃ لازم ہوگی۔ اور اگر پہلے صاحب نصاب ہو تو اس صورت میں اس کے ساتھ شامل ہو کر، اس پر زکوۃ لازم ہوگی جبکہ سالہائے گزشتہ کی زکوٰۃ لازم نہیں۔
2۔ ہاؤسنگ اسکیم کا پورا طریقہ کار واضح کر دیا جائے تو اس پر غور کر کے حکم شرعی سے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
3۔ سائل جب زکوۃ کا حساب کرنے لگے تو ٹیکس کی رقم کو منہا کرنے کے بعد باقی ماندہ رقم پر ڈھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کر دے۔
ففي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وجملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة (إلی قوله)ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا. (إلی قوله) وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، (إلی قوله)ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض. (2/ 10)
و في الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. (الى قوله) (فارغ من دين له مطالب من جهة العباد اھ (2/ 259)