زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا خرید شدہ مکان بقیہ قیمت زکوٰۃ سے منہا ہوگی؟

فتوی نمبر :
19608
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا خرید شدہ مکان بقیہ قیمت زکوٰۃ سے منہا ہوگی؟

میں رہائش کے لیے ایک گھر خرید رہا ہوں ، میرا اس گھر کے مالک سے یہ معاہدہ ہوا ہے کہ پانچ لاکھ روپے کی پیشگی ادائیگی کرونگا، اور مزید پچیس لاکھ روپے میرے ذمے واجب الاداء ہے، جو کہ تین مہینے کے بعد ادا کرنے ہیں، کیا ہمیں 25 لاکھ روپے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مکان کا قرض ادا کرنےسے قبل اگر زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت آجائے تو مذکور قرضہ منہا کرنے کے بعد بقیہ مال پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا، الخ (2/6)۔
و فی الھندیة: (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل الخ (1/172)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 19608کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات