زکوۃ و نصاب زکوۃ

میں زکوٰۃ کے بارے جاننا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کتنی زکوٰۃ بنتی ہے

فتوی نمبر :
19624
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

میں زکوٰۃ کے بارے جاننا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کتنی زکوٰۃ بنتی ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں زکوٰۃ کے بارے جاننا چاہتا ہوں، کہ مجھ پر کتنی زکوٰۃ بنتی ہے، میرے پاس ایک گھر ہے جس میں میں رہ رہا ہوں، اس کی مالیت تقریبا بارہ تیرہ لاکھ ہے، اور میرا ایک پلاٹ ہے، خالی پڑا ہوا ہے، اور میں نے یلوکیب (پیلی ٹیکسی ) قسطوں پر لی ہے، جس کی مالیت تقریبا چھ لاکھ اور ابھی اس کی تین سال کی قسطیں رہتی ہیں، ابھی میرے گھرمیں تقریبا ضرورت کی ہر چیز موجود ہے، اورزیورات جو میری وائف کے پاس ہے، وہ تقریبا 60000 ہزار تک کا ہوگا، تو اس طرح مجھ پر کتنی زکوٰۃ بنتی ہے؟ تھوڑا کم زیادہ ہوسکتا ہے؟ پلیز جواب جلد دیجئے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

رہائشی مکان گھریلو اشیاء اور کمائی کی غرض سے قسطوں پر لی ہوئی گاڑی کی مالیت میں زکوٰۃ نہیں ، البتہ مذکور اضافی پلاٹ اگر بیچنے کی نیت سے خریدا ہو ، اور اب بھی یہ نیت برقرار ہو، تو اس کی مالیت اور اپنے پاس موجود رقم اگر قرض منہا کرنے کے بعد بقدر نصاب ہو ، تو اس میں چالیسواں حصہ ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایة: ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه ( الی قولہ) وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا الخ (1/95)۔
و فیھا ایضاً: ليس فيما دون مائتي درهم صدقة " لقوله عليه الصلاة والسلام " ليس فيما دون خمس أواق صدقة " والأوقية أربعون درهما الخ (1/102)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 19624کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات