محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم
میری گھر والی کے پاس سونے کی زیورات ہیں ،جس کی زکوٰۃ محرم الحرام کے مہینے میں نکالنا ہوتا ہے، جبکہ میں نے رمضان المبارک میں اس وقت کے حساب سے نکالی تھی ، چونکہ محرم میں سال پورا ہو رہا ہے لہذا
(۱) محرم میں سونے کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے جو فرق آیا ،اس کو بھی نکالنا ہے ؟
(۲) زکوة ٢٤ کیرٹ کے حساب سے نکالنی ہے جبکہ زیورات ۲۲ کیرٹ کی ہوں یا ۲۲ کیرٹ کے حساب سے ؟
صورت مسئولہ میں رمضان سے محرم الحرام تک ۲۲ کیرٹ کی قیمت میں جو فرق آیا ہے اس کا حساب کر کے چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ ادا کرنا سائل کے اہلیہ کے ذمہ لازم ہے اور زکوٰۃ میں اسی کیرٹ کا لحاظ کیا جاتا ہے جس کے بنے ہوئے زیورات ہوں۔
ففي الدر المختار: وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. و في السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح اھ (2/ 286)
و في التاتارخانية: و في الو لوالجيه يقوّم يوم حال عليها الحول بالغة ما بلغت بعد أن کانت قیمتها فی اول الحول مائتین ویزکی مائتی درهم خمسة درهم اھ (۲/ ۲۳۸)