زکوۃ و نصاب زکوۃ

مدرسہ کا تعلیمی نظام چلانے کے لئے زکوۃ و چرم قربانی وصول کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
22922
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مدرسہ کا تعلیمی نظام چلانے کے لئے زکوۃ و چرم قربانی وصول کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ! ایک مدرسہ جو کہ کرایہ پر ہے، وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے منظور شدہ ہے۔ اس میں اسکول بھی ہے جس میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی ہے ، پچھلے پندرہ سالوں سے مسلمان طلبہ کو پڑھایا جاتا ہے ، اور عصری تعلیم کی عام فیس لی جاتی ہے ، دوسری طرف مذہبی تعلیم فری دی جاتی ہے (حفظ ، ناظرہ ، درس نظامی ) اور کچھ طلبہ کی رہائش مفت ہے ، جیسا کہ آج کل ہر مدرسہ میں ہو رہا ہے ، ان کا علاج معالجہ خوراک اور دونوں تعلیم مدرسے کی ذمہ داری ہوتی ہے جو کہ فری ہے، لیکن سال کے اختتام میں مخیر حضرات چندہ دیتے ہیں، زکوۃ، صدقات ،عطیات اور چرم قربانی کے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی امداد قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں جائز ہے؟ برائے مہربانی ہمیں اس زمانے کے حساب سے صحیح جواب سے مطلع فرمائیں، ہم آپ کی بہت شکر گزار ہوں گے، اللہ آپ پر رحم کرے ، اور سب نیکو کاروں کو امن میں رکھے ۔ جزاک اللہ خیرا!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکورہ مدرسے میں اگر مسافر اور مستحق رہائشی طالب علم بھی ہوں جن کی ضروریات مدرسہ کے ذمہ ہوں، تو وہ زکوۃ اور دیگر صدقات واجبہ کا مصرف ہیں، ان کے لیے زکوۃ اور چرم قربانی کا لینا جائز اور درست ہے اگر چہ اس مدرسہ میں اسکول پڑھنے والوں سے فیس بھی وصول کی جاتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى : {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ و في الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ و في سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ } [التوبة: 60]
و في الدر المختار: وبهذا التعليل يقوى ما نسب للواقعات من أن طالب العلم يجوز له أخذ الزكاة ولو غنيا إذا فرغ نفسه لإفادة العلم واستفادته لعجزه عن الكسب اھ (2/ 340)
و في رد المحتار تحت (قوله ما نسب للواقعات ) : ذكر المصنف (الى قوله) و في المبسوط: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا إلا إلى طالب العلم والغازي ومنقطع الحج لقوله - عليه الصلاة والسلام - «يجوز دفع الزكاة لطالب العلم وإن كان له نفقة أربعين سنة» . اهـ. (2/ 340)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: والحاجة داعية إلخ) الواو للحال. والمعنى أن الإنسان يحتاج إلى أشياء (إلى قوله) والأوجه تقييد بالفقير، ويكون طلب العلم مرخصا لجواز سؤاله من الزكاة وغيرها وإن كان قادرا على الكسب إذ بدونه لا يحل له السؤال اھ (2/ 340)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 22922کی تصدیق کریں
0     28
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات