زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ کی رقم سے مدرسے کو واٹر کولر فراہم کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
25824
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ کی رقم سے مدرسے کو واٹر کولر فراہم کرنا جائز ہے ؟

کیاہم زکوٰۃ کی رقم کو کسی مدرسہ یا اسکول کا واٹر کولر یا کنواں کے لیے خرچ کر سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صحت زکوٰۃ کے لیے مستحق کو مال زکوٰۃ پر مالک بنا دینا شرط ہے جو صورت مسئولہ میں مفقود ہے، اس لیے زکوٰۃ کی رقم کو کسی مدرسہ یا اسکول کے واٹر کولر یا کنویں کی کھدائی میں لگانے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحرالرائق: (قوله هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -) لقوله تعالى {وآتوا الزكاة} [البقرة: 43] والإيتاء هو التمليك ومراده تمليك جزء من ماله، وهو ربع العشر الخ (2 /216)۔
و فی الھدایة: ولا يبنى بها مسجد ولا يكفن بها ميت " لانعدام التمليك وهو الركن الخ (1/ 111)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25824کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات