ایک شخص کے گھر میں اے سی اور فریج ہے، لیکن اس کے کمائی سے گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا، کیا اس کو زکوٰٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں ؟
اگر مذکور اشیاء کے علاوہ شخص مذکور کے پاس سونا، چاندی ، نقدی ، اور مال تجارت اور ضرورت سے زائد چیزیں موجود نہ ہو(جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر ہو) یا موجود ہوں مگر وہ اتنے کا مقروض بھی ہو ، تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ورنہ نہیں۔
کمافی الھندیة: (منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة كذا في فتح القدير.الخ (1/187)۔
وفیھا ایضاً: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي الخ (1/189)۔