۱۔ میرا ایک مکان ہے جس کی قیمت پانچ لاکھ روپے ہے میں نے اس کو کرایہ پر دیاہواہے اس پر زکوٰۃ ہے کہ نہیں؟
۲۔ اور میری ملکیت میں دو گاڑی ہیں قیمت تقریباً ۲ لاکھ ہے ایک (سوزوکی) میں خود چلاتاہوں جس سے روزانہ تقریباًدو ڈھائی ہزار کماتاہوں اور دوسری گاڑی سے مہینے میں ساڑھے تین ہزار روپے ملتے ہیں ان گاڑیوں پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
۳۔ ایک دکان جس کی مالیت ۲ لاکھ ہے جسے میرا بیٹا چلاتاہے اس پر زکوٰۃ کس حساب سے ہے؟
۴۔ گاڑیاں، دکان اور مکان وغیرہ کی الگ الگ زکوٰۃ دینی ہوگی یا جو نقد رقم ہے صرف اس پر زکوٰۃ ہے؟
۵۔ میرے گھر میں تین مستورات ہیں جس کے ہاں کل تقریباً ۱۳ تولہ سونا ہے اب اس سونے کی زکوٰۃ میرے ذمہ واجب ہے یا الگ الگ ان سب پر؟
۶۔ اور میں نے کسی کو ادھار رقم دی ہوئی ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ ہے؟
۷۔ میری کچھ رقم بینک میں جمع ہے کیا اس پر زکوٰۃ بینک ادا کرے گا یا وہ بھی میرے ذمہ ہے؟
نوٹ: سوال نمبر پانچ میں مذکور سونا در اصل میری بیوی اوربیٹیوں کے مہر کی مالیت ہے اس میں سے ۳ تولہ جوکہ میری بیوی کا مہر ہے اس نے معاف کردیا ہے اور باقی ۱۰ تولہ باقی دونوں کا مہر ہے۔
واضح ہو کہ زکوٰۃ کی تاریخ کے دن سائل کی ذاتی ملکیت میں جس قدر سونا، چاندی، مالِ تجارت اور نقدی (چاہے اس کے قبضہ میں ہو یا کسی کو بطور قرض دی ہوئی ہو) اس کا حساب کرنے کے بعد کرایہ پر دیے ہوئے مکان اور گاڑی کی مزدوری اور کرایہ سے حاصل شدہ جو کچھ رقم موجود ہو اس کو اس میں شامل کرلے اس کا جو بھی مجموعہ ہو اس سے سائل کے ذمہ لوگوں کا جو بھی قرضہ ہو اس کو منہا کرنے کے بعد جو بھی بچے اس کل مالیت کا چالیسواں حصہ یعنی سو میں سے اڑھائی فیصد کے حساب سے اس کی زکوٰۃ نکال کر کسی مستحق کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دینا لازم ہے اس کے بعد آپ کے سوالات کا جواب بھی ترتیب وار لکھا جاتاہے۔
۱، ۲۔ مذکور مکان اور گاڑی کی اصل مالیت پر زکوٰۃ نہیں البتہ بصورت کرایہ وغیرہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی جو تاریخ زکوٰۃ کے دن موجود ہو اس پر زکوٰۃ لازم ہے۔
۳۔ دکان کی مالیت میں زکوٰۃ نہیں البتہ اس میں موجود سامان پر اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے زکوٰۃ لازم ہوگی۔
۴۔ اس کا جواب ایک اور دو کے تحت آگیاہے۔
۵۔ وہ سونا جس کی ملکیت ہے وہی اس کی زکوٰۃ بھی ادا کرے گا اب اگر ان کے ہاں کچھ رقم وغیرہ بھی ہو تو اس کی زکوٰۃ بھی تمہید میں دی ہوئی ترتیب سے دی جائے گی۔
۶۔ جی ہاں ایسی رقم پر بھی زکوٰۃ لازم ہے۔
۷۔ اگر سائل نے بینک کو زکوٰۃ نکالنے سے منع نہ کیا ہو تو یکم رمضان کو اس کی زکوٰۃ کی نیت کرلے ورنہ اپنے طور پر اس کی زکوٰۃ نکالنا لازم ہوگا۔ واللہ اعلم!
وفی الدر مع الشامیة: وکذالك اٰلات المحترفین الا ما یبقٰی اثر عینه
وفی الشامیة: تحته ومنه ما یبقی کعصفر وزعفران لصباغ ودهن وعفصر لدباغ فلا زکاة فی الاولیان ما یأخذه من الاجرة بمقابلة العمل وفی الاخیر الزکاة اذا حال علیه الحول لان الماخوذ بمقابلة العین کما فی الفتح قال: وقواریر العطارین ولحم الخیل والحمیر المشتراه للتجارة. (۲/ ۲۶۵)
وفی الهدایة: وفی تبر الذهب والفضة وحلیهما واوانیهما الزکوٰة( الی قوله )الزکوة واجبة فی عروض التجارة الخ. (۱/ ۱۹۵) وهکذا فی الدر المختار: (۲/ ۲۹۸)
وفی الدر المختار: واعلم ان الدیون عند الامام ثلاثة قوی( الی قوله )وتجب زکاتها اذا تم نصابا وحال علیه الحول الخ. (۲/ ۳۰۵)