میری الحمد اللہ دو لاکھ تنخواہ ہے، لیکن میرے پاس پچیس ہزار سے زائد مہینے میں رقم نہیں بچتی ہے، بسا اوقات میرے پاس پچیس ہزار روپے ہوتے ہیں ، اور کبھی اس سے زیادہ ، میرے پاس پانچ تولہ سونا بھی ہے اور ماہانہ تنخواہ تو اس اعتبار سے کیا مجھے زکوٰۃ کا حساب کرنا چاہیے؟
اگر پانچ تولہ سونا سائل کی ذاتی ملکیت ہو اور اس سونے کے علاوہ اس کے پاس ماہانہ تنخواہ کی بچت یا اور کوئی نقدی رقم یا چاندی اگر کسی تاریخ میں اتنی ہو کہ اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے ، پھر جب سال کی وہی تاریخ آئے تو وہ قدر نصاب یا اس سے زائد ہوں، تو ان پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ فرض ہوگی ورنہ نہیں۔
کما فی الھندیة: (ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز الخ (1/172)۔