میرے انکل کے دو رہائشی پلاٹ ہیں، اگر انہیں بیچا جائے تو بہت رقم ملے گی ، ورنہ اس کے پاس اورکوئی رقم یا سونا وغیرہ نہیں ہے ، اس کا کاروبار خسارے میں جا رہا ہے، اس نے اپنی فیملی کے اخراجات ماہانہ کے پورے کرنے کی کوشش کی ہے، اس بیوی کے پاس سونا ہے نصاب سے بڑھ کر جو اسے شادی کے وقت گفٹ کے طور پر ملا تھا، کیا وہ اس کی زکاۃ ادا کرے گا؟
رہائشی پلاٹوں پر زکوٰۃ لازم نہیں ، البتہ سائل کے انکل کے پاس ان پلاٹوں کے علاوہ مال تجارت سونا، چاندی وغیرہ موجود ہو ، تو ان کی مالیت پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہے، جبکہ بیوی کے پاس اگر بقدر نصاب مال سونا، چاندی وغیرہ ہو ، تو اسی پر زکوٰۃ لازم ہے ورنہ نہیں۔
کما فی الھدایة: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول الخ (1/95)۔
وفیھا ایضا: ليس فيما دون عشرين مثقالا من الذهب صدقة فإذا كانت عشرين مثقالا ففيها نصف مثقال " الخ (1/195)۔