زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر دو پلاٹوں میں کسی ایک کو فروخت کرنے کی نیت سے خریدا جائے تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
28790
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر دو پلاٹوں میں کسی ایک کو فروخت کرنے کی نیت سے خریدا جائے تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

چند سالوں قبل میں نے ایک دس مرلہ کا پلاٹ گھر بنانے کے لیے خریداتھا، اب میں نے دوسرا پلاٹ اس نیت سے خریدا ہے کہ ان میں سے میں ایک کو بیچ دونگا، اوراس رقم سے دوسرے کا گھر بنا دوں گا؟ مجھے بتائیے کہ مجھ پر ان دونوں پلاٹ کی زکوٰۃ لازم ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے دونوں پلاٹوں میں سے کسی پلاٹ کی مالیت پر زکوٰۃ نہیں، البتہ فروخت ہونے والے پلاٹ کی قیمت سائل کے قبضہ میں آنے اور صرف ہونے سے قبل سابقہ نصاب پر سال پورا ہوجائے یا اسی پر سال گزرنے سے اس پر بھی زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة،(الی قولہ) إذا لم يكن للتجارة، الخ (1/172)۔
و فی الدرالمختار: (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة، الخ (2/165)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کاشف محمود اسلم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 28790کی تصدیق کریں
0     210
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات