زکوۃ و نصاب زکوۃ

کرایہ پر دئیے گئے مکان کی مالیت زکوۃ کے حساب میں شمار کرنی لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
30815
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کرایہ پر دئیے گئے مکان کی مالیت زکوۃ کے حساب میں شمار کرنی لازم ہوگی؟

السلام علیکم! میں بیرون ملک میں رہتا ہوں، اپنے وطن اصلی سے باہر۔ میں نے حال ہی میں اپنے وطن اصلی میں ایک گھر خریدا اسلامک فائنانس کے ذریعے، پورا گھر فی الحال کرایہ پر دیا ہوا ہے، ارادہ یہ ہے کہ جب واپس آؤں تو گھر کا کچھ حصہ اپنے لئے استعمال کروں اور باقی کو کرایہ پر دوں) زکوۃ کے مسائل کی وضاحت فرمائیں ، اس صورت پر ، فی الحال پورا کرایہ جو موصول ہو رہا ہے، وہ میرے قرض اور رہن کے لیے استعمال ہو رہا ہے، سال کے آخر میں جو کرایہ میرے پاس بچ جاتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ کیا زکوۃ کے نصاب میں گھر کی قیمت بھی ملانا ہوگا ؟ اسلامک بینک سے رہن یا قرض کا کیا حکم ہے؟ قرض کی مقدار زکوۃ کے نصاب سے کم کر سکتا ہوں چاہے گھر نصاب میں شامل ہو یا نہ ؟ مزید و ضاحت کے لیے میں صاحب نصاب ہوں اور ہر سال زکاۃ ادا کرتا ہوں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور کرایہ پر دیئے ہوئے مکان کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں، البتہ سال کے اختتام پر مذکور مکان سے حاصل شدہ آمدنی کو دیگر اموال زکوٰة کے ساتھ ملا کر قرض منہا کرنے کے بعد ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا، جبکہ اسلامک بینک کے قرض اور رہن کی تفصیل لکھ کر دوبارہ ای میل کر دے اس پر غور و فکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة اھ (2/ 265)
وفی رد المحتار تحت: (قوله وأثاث المنزل إلخ) محترز قوله نام ولو تقديرا، وقوله ونحوها: أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات اھ (2/ 265)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30815کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات