زکوۃ و نصاب زکوۃ

بھتیجی کی شادی کے موقع اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
30852
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بھتیجی کی شادی کے موقع اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرے شوہر اپنے بھائی کے کنبے کی جس میں چار بالغ بچے دو بیٹے دو بیٹیاں شامل ہیں، ماہانہ کفالت کرتے ہیں، ان کی بیٹی کی اس سال شادی ہے کیا زکوٰۃ کے پیسے ان کی بیٹی کی شادی میں دیئے جاسکتے ہیں؟ جبکہ والد کی کوئی آمدنی نہیں ہے، اور والدہ حیات نہیں ہے، بھائی بہن مل کر تھوڑا بہت کچھ کما لیتے ہیں، گھر بھی کرائے کا ہے جواب جلد سے مطلع کردے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جس بچی کی شادی ہو رہی ہے وہ یا اس کے والداگر مستحق زکوٰۃ ہوں،تو ان کے ساتھ زکوٰۃ کی رقم سے تعاون کرنا جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی خلاصة الفتاوی: لاتجوز دفع الزکاۃ الی الاولادہ واولاد اولادہ من قبل الزکور والاناث وان سفلوا ولا الی والدیہ واجدادہ وجداتہ وان غلو من قبل الاباء والا مہات ویجوز الی سائر قرابتہ نحو الاخوۃ والاخوات والاعمام والعمات والاحوال والخالات الخ (1/242)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدشعیب گل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30852کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات