السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا ایک سوال ہے زکوٰۃ کے حوالے سے خاکہ نیچے لکھا ہوا ہے۔ فرض کریں کہ میں ہر سال رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو زکوٰۃ دیتا ، میرے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ روپے ہیں، ان پیسوں پر سال مکمل ہوچکا ہے، لیکن پہلی رمضان سے چند دن پہلے میرے اکاؤنٹ میں اسی ہزار روپے آئے ہیں ، کیا میں زکوٰۃ ایک لاکھ پر دوں جن پر سال مکمل ہوچکا ہے، یا ایک لاکھ اسی ہزار پر ؟
مال پر سال گزرنے کی جو شرط ہے، وہ نصاب کے اوپر ہر ہر ما ل یا پیسہ پر سال گزرنا ضروری نہیں، لہذا سائل کو سال کے درمیان میں جو رقم اسی ہزار حاصل ہوئی ہے، اس پر بھی سال کے ختم ہونے پر اصل رقم ایک لاکھ کے ساتھ زکوٰۃ نکالنا فرض ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: والمستفاد في الحول لا يخلو إما أن كان من جنس الأصل (الی قوله) حاصلا بسببه يضم إلى الأصل ويزكى بحول الأصل بالإجماع وإن لم يكن متفرعا من الأصل ( الی قوله) لأن ذلك تبع للأصل في الملك؛ لكونه تبعا له في سبب الملك فيكون تبعا في الحول( الی قوله) ولأن المستفاد من جنس الأصل تبع له الخ (2 /13)۔