زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیٹی کو جہیز میں دینے کے لئے جو سونا لے کر رکھا جائےاس پر زکوۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
30953
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیٹی کو جہیز میں دینے کے لئے جو سونا لے کر رکھا جائےاس پر زکوۃ لازم ہوگی؟

مفتی صاحب! 1۔ بیٹی کے جہیز کے لئے جو سونا لے کر رکھا جائے اور اس پر سال سے زیادہ عرصہ گزر جائے تو کیا اس سونے پر زکوۃ لازم آئے گی؟ (2) بیٹی کے جہیز کے لیے واشنگ مشین، اون، برتن وغیرہ لے کر رکھے جائے ،تو کیا ان پر بھی زکوۃ ہے؟ (3) ایک شادی شدہ لڑکی کو سسرال کی طرف سے زیور وغیرہ دیا گیا ، مگر وہ لڑکی اس کو بیچ نہیں سکتی نہ اُس کہ حق مہر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں وہ اسے استعمال کر سکتی ہے تو اس سونے کی زکوۃ کسی پر لازم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1۔ بیٹی کے جہیز وغیرہ کے لیے رکھے ہوئے سونے اور چاندی پر بھی سال گزرنے کے بعد زکوة واجب ہوگی ۔
2۔ گھریلو استعمال کے ساز و سامان جیسے واشنگ مشین ، اون بر تن و غیره پر زکوة لازم نہیں۔
3۔ جو زیور سسرال کی طرف سے بطور عاریت دیا گیا ہے وہ جس کی ملکیت ہے اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی لڑکی پر نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما صفة نصاب الذهب فنقول: لا يعتبر في نصاب الذهب أيضا صفة زائدة على كونه ذهبا فتجب الزكاة في المضروب والتبر والمصوغ والحلي إلا على أحد قولي الشافعي في الحلي الذي يحل استعماله والصحيح قولنا؛ لأن قوله تعالى {والذين يكنزون الذهب والفضة} [التوبة: 34] وقول النبي - صلى الله عليه وسلم - في كتاب عمرو بن حزم وحديث علي يقتضي الوجوب في مطلق الذهب. (2/ 18)
و في الهداية شرح البداية: ليس فيما دون عشرين مثقالا من الذهب صدقة فإذا كانت عشرين مثقالا ففيها نصف مثقال لما روينا اھ (1/ 104)
و في حاشية ابن عابدين: (فارغ عن حاجته الأصلية) ما كان نصابا من النقدين أو أحدهما فارغا عن الصرف إلى تلك الحوائج، لكن كلام الهداية مشعر بأن المراد به نفس الحوائج، فإنه قال: وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية. اهـ. (2/ 262)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30953کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات