زکوۃ و نصاب زکوۃ

مقروض کو قرض معاف کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی؟

فتوی نمبر :
31025
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مقروض کو قرض معاف کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی؟

جناب! میرا کپڑے کا کام ہے، اپنے والد صاحب کے ساتھ ہم سے ہمارے ایک رشتے دار نے مال لیا کپڑے ،پھر وہ اس کی رقم نہیں دے سکا، وہ مطالبہ کر رہا ہے کہ یہ پیسے میں زکوۃ کی مد میں کاٹ کر اس کو چھوڑ دوں کیا ایسا کرنا جائز ہے کیا اس سے میری زکوة ادا ہو جائے گی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرض کی رقم زکوٰۃ میں چھوڑنے سے زکوٰۃ اداء نہیں ہوگی ، البتہ وہ مستحق زکوٰۃ ہو تو اس کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ اسے زکوٰۃ کی رقم دیدیں، اور جب وہ قبضہ میں لے لیں تو اس سے اپنے قرضہ کی مد میں واپس لے لی جائے، چنانچہ ایسا کرنے سے سائل کی زکوٰۃ اداء ہوگی اور وہ مستحق قرض سے فارغ الذمہ ہو جائے گا ۔

مأخَذُ الفَتوی

و في الخلاصة : اذا وهب الدين من المديون ......... ينوى به الزکاة ان كان المديون غنيا لا يجوز ويضمن والواہب قدر الزكاة استحسانا وان كان المديون فقيراً فوهب الدين ينوى به زکاة مال عين عند الواهب لا يسقط عنه ذلك المال، وكذا لو نوى دین آخر علی غیره (۱/ ۲۴۴، جنس آخر فی ھبة الدین کتاب الزکاة)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: والأصل فيه أن أداء العين عن العين وعن الدين يجوز، وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز، وأداء الدين عن دين لا يقبض يجوز كذا في شرح الطحاوي وحيلة الجواز أن يعطي المديون الفقير خمسة زكاة ثم يأخذها منه قضاء عن دينه كذا في المحيط اھ (2/ 228)
وايضا في الدر المختار: واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه اھ (2/ 270) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 31025کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات