میرے بڑے بھائی صاحب نے خود میاں بیوی اور ماں باپ کے لئے پلاٹ فروخت کر کےگورنمنٹ حج کے لئے اپلائی کیا ہوا ہے ، جو کہ ویٹنگ لسٹ میں ہے ، اس کے علاوہ حج کے دیگر اخراجات ( قربانی وغیرہ) کے لئے بھی کچھ رقم رکھی ہوئی ہے ، سوال یہ پوچھنا ہے کہ ان رقوم پر زکوٰۃ واجب الأدا ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو صرف گورنمنٹ حج کے لئے ادا شدہ رقم پر ہے ،یا صرف حج کے دیگر اخراجات کے لئے رکھی گئی رقم پر ،یا دونوں رقوم پر؟ والدہ اور والد صاحب ، صاحبِ نصاب ہیں ، والدین اور اہلیہ کے حج سے متعلق گورنمنٹ میں ادا شدہ اور خرچ کے لئے رکھی گئی رقم پر زکوٰۃ کی کیا کیفیت ہو گی ؟ اور آیا ان دوسری رقوم پر زکوٰۃ واجب الأدا ہو گی یا نہیں ؟ اگر ہو گی تو کس پر اور کونسی رقم پر واجب الأدا ہو گی ؟ برائے مہربانی جلد جواب عنایت فرماد یجیے ؟
اگر مذکور افراد کے حج کا داخلہ منظور ہو جائے تو زکوٰۃ کی تاریخ میں اسکی رقم پر زکوۃ لازم نہیں ، البتہ حج پر جا نے میں اگر وقت ہو تو بقیہ اخراجات کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوٰة لازم ہے، چاہے اپنے لئے رکھی ہو یا دوسروں کے لئے۔
کما فی الشامیۃ تحت : (قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (الی قوله )على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أیضاً في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، اھ (2/262)۔