السلام علیکم ! فون پر میری بات مفتی صاحب سے ہوئی ہے اسی کے حوالے سے میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں، میری والدہ عمرہ پر جا رہی ہے، انہوں نے اپنی طرف سے یاد کر کے یہ سونے کا حساب لکھا ہے، جس میں کوشش کی ہے کہ زیادہ ہی لکھ دے کہ کم نہ ہوں ؟ پھر بھی اللہ سے معافی کے طلب گار ہیں ۔ آپ کی رہنمائی درکار ہے کہ کتنے وزن کا سونا کتنے سال ان کے پاس رہا تو زکوٰۃ کے پیسے کتنے بنتے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے فی الحال ڈھائی لاکھ (250.000 کی ادائیگی زکوٰۃ کی مد میں کرنی ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ جلد سے جلد تحریری فتوی دیدیں وہ اس ہفتے عمرے میں جا رہی ہے اور جانے سے پہلے اطمئنان کرنا چاہتی ہے کہ جو ادائیگی انہوں نے کر دی ہے وہ پوری ہو گئی ہے اور مزید رہتی تو نہیں ہے اور اگر رہتی ہے تو اپنے ہاتھ سے ادا کرنا چاہتی ہے۔
سائلہ کی والدہ کے پاس جتنے سالوں تک سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت یا ان سب کا مجموعہ بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر) موجود رہا اور سائلہ کی والدہ نے زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں کی تو اب اس کا حساب لگا کر گزشتہ تمام سالوں کی اس طریقہ پر زکوۃ ادا کرے کہ حساب کر کے پہلے سال جتنی رقم بنے اس کی زکوۃ ڈھائی فیصد کے حساب سے ادا کرے اس کے بعد جو بچ جائے اس میں سے دوسرے سال کی زکوٰۃ ڈھائی فیصد کے حساب نکالے اسی طر ح تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کر کے منہاکیا کرے ۔ اس طرح حساب کے بعد جتنی رقم بطور زکوٰۃ نکالی گئی ہے، آخر میں اس کا حساب کر کے منہا کرے۔
و في الدر المختار: وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. و في السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه اھ (2/ 286)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): و في المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها اھ (2/ 286)
وأيضاً في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) اھ (2/ 295)