السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مجھے زکوٰۃ پر مشورے کی ضرورت ہے، میں ایک فلیٹ اور دکان کا مالک ہوں ، فی الحال دونوں جائیداد کرایہ پر ہے، لیکن قریب یا دور مستقبل میں اگر اچھی قیمت لگے، تو میں ان کو بیچ دونگا، آنے والے کرایہ میں اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرواتا ہوں، اور معمولانہ ماہانہ اخراجات کے ساتھ استعمال کرتا ہوں، سال کے آخر میں نقد یا بینک بقایا رقم پر حسب نصاب زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہوں، اب میرا سوال ہے کہ میں زکوٰۃ کے طور پر کیا ادا کروں؟ جائیداد کی قیمت خرید پر یا اصل یا کل سالانہ کرایہ پر یا خالص بچت ( معمولانہ ماہانہ اخراجات کے بعد) بقایا رقم بینک یا نقد پر یا کسی اور طریقے یا حساب سے۔
سائل نے مذکور دکان اور فلیٹ اگر بیچنے کی غرض سے نہ خریدے ہوں، تو جب تک یہ فروخت نہیں ہوتے، اس کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں، البتہ دکان وفلیٹ سے حاصل ہونے والے کرایہ کو باقی مال کے ساتھ ملا کر سال کےآخر میں جمع شدہ مجموعی رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
کما فی الھدیة: ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة " لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة " وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة الخ (1/96)۔
وفیہ ایضاً: وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة الخ (1/103)۔